سورج کے مکمل گرہن کا نادر موقع، سائنس دان ستارے کے پوشیدہ رازوں کی تلاش میں نکل پڑے
سورج کے مکمل گرہن کا نادر موقع، سائنس دان ستارے کے پوشیدہ رازوں کی تلاش میں نکل پڑے
اگلے ہفتے اسپین میں نظر آنے والا مکمل سورج گرہن دنیا بھر کے سائنس دانوں کے لیے ایک غیر معمولی تحقیقی موقع فراہم کر رہا ہے، جب ماہرین سورج کے مقناطیسی میدان، بیرونی ماحول اور اس کی شدید موسمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کریں گے۔
12 اگست کو جب چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا تو فلکیاتی ماہرین مختلف آلات کے ذریعے سورج کے ان حصوں کا مطالعہ کریں گے جو عام حالات میں اس کی تیز روشنی کے باعث نظر نہیں آتے۔ سائنس دانوں کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ سورج کے اندر ہونے والی پرتشدد تبدیلیاں کس طرح زمین پر اثر انداز ہوتی ہیں، جن میں سیٹلائٹس، مواصلاتی نظام اور بجلی کے نیٹ ورک کو متاثر کرنے والے شمسی طوفان بھی شامل ہیں۔
مکمل سورج گرہن صدیوں سے سائنسی دریافتوں کا ذریعہ رہے ہیں۔ تاریخ کا ایک مشہور واقعہ 29 مئی 1919 کو پیش آیا، جب برطانوی ماہرِ فلکیات آرتھر ایڈنگٹن نے مغربی افریقہ کے جزیرے پرنسپے سے سورج گرہن کا مشاہدہ کیا۔
ایڈنگٹن نے اس موقع پر سورج کے قریب سے گزرنے والی ستاروں کی روشنی کے جھکاؤ کا مشاہدہ کیا، جس سے البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت (تھیوری آف ریلیٹیویٹی) کی تصدیق میں مدد ملی۔ یہ دریافت جدید طبیعیات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔
آج کے سائنس دان اسی قدرتی مظہر کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے سورج کے ان رازوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اب بھی ماہرین کے لیے ایک معمہ ہیں۔
خاص طور پر سورج کی بیرونی تہہ، جسے کورونا کہا جاتا ہے، سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز ہے، کیونکہ یہ حیرت انگیز طور پر سورج کی سطح سے کہیں زیادہ گرم ہے اور اس کے بارے میں کئی سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مکمل گرہن صرف ایک آسمانی منظر نہیں بلکہ ایک ایسا قدرتی تجربہ گاہ ہے جو انسان کو اپنے قریب ترین ستارے کو سمجھنے کا نادر موقع فراہم کرتی ہے


