ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کا نیا رخ، امریکی فوجیوں کے خاندان بھی گرفتاریوں کی زد میں
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کا نیا رخ، امریکی فوجیوں کے خاندان بھی گرفتاریوں کی زد میں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف جاری سخت کارروائی اب ان خاندانوں تک بھی پہنچ گئی ہے جن کے افراد امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک خصوصی تحقیقات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں 50 سے زائد ایسے والدین اور شریکِ حیات گرفتار کیے جا چکے ہیں جو فعال ڈیوٹی پر موجود امریکی فوجیوں کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
اے پی کی تحقیقات کے مطابق کم از کم 6 افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے، ایک شخص خود امریکہ چھوڑ چکا ہے، جبکہ کم از کم 8 فوجی خاندانوں کے قریبی افراد اب بھی وفاقی امیگریشن حراست میں موجود ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ کئی دہائیوں سے امریکی سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک عمومی اتفاق رائے موجود تھا کہ فوجی اہلکاروں کے قریبی خاندانوں کو امیگریشن کارروائیوں میں خصوصی تحفظ دیا جائے گا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ فوجی جو ملک کی خدمت کر رہے ہیں، انہیں اپنے خاندانوں کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کے تحت وہ تحفظات اب کمزور پڑ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی فوجی خاندان ایسے افراد کے ساتھ رہ رہے ہیں جنہیں قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے عمل کے دوران گرفتار کیا گیا، حالانکہ امریکی قانون میں فوجیوں کے قریبی رشتہ داروں کے لیے بعض راستے موجود ہیں۔
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی کے فوجی ادارے پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ امریکی فوج طویل عرصے سے غیر ملکی نژاد افراد کو بھرتی کرتے وقت ان کے خاندانوں کے لیے امیگریشن سہولتوں کو ایک اہم ترغیب کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات فوجیوں کے حوصلے، ذہنی سکون اور بھرتی کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ عالمی تنازعات میں مصروف ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین کا نفاذ سب پر یکساں ہونا چاہیے اور غیر قانونی حیثیت رکھنے والے افراد کو ملک میں رہنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم فوجی خاندانوں کے معاملے نے اس پالیسی کو ایک نئے سیاسی اور اخلاقی تنازع میں تبدیل کر دیا ہے


