Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانتحریک انصاف کی احتجاجی کال :5 اگست کے احتجاج سے 27 ستمبر...

ٹرینڈنگ

تحریک انصاف کی احتجاجی کال :5 اگست کے احتجاج سے 27 ستمبر کے اعلان تک: حکمت عملی، خاموش پنجاب اور بدلتے سیاسی منظرنامے

تحریک انصاف کی احتجاجی کال :5 اگست کے احتجاج سے 27 ستمبر کے اعلان تک: حکمت عملی، خاموش پنجاب اور بدلتے سیاسی منظرنامے

اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال ایک ایسے وقت میں دی گئی جب ملک پہلے ہی سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی اختلافات کے ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے۔ پارٹی قیادت نے احتجاج کو حکومت کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر پیش کیا، جبکہ پشاور سمیت بعض شہروں میں ہونے والے مظاہروں کو تحریک انصاف نے عوامی طاقت کا اظہار قرار دیا۔

پشاور میں ہونے والا جلسہ تحریک انصاف کے لیے سب سے نمایاں سرگرمی کے طور پر سامنے آیا۔ بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت، تقاریر اور پارٹی رہنماؤں کے بیانات نے یہ تاثر دیا کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی تنظیمی طاقت اب بھی موجود ہے۔ اسی موقع پر پارٹی قیادت نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا، تاہم بڑے پیمانے پر کسی فوری تحریک یا ملک گیر مہم کے بجائے 27 ستمبر کی تاریخ سامنے لائی گئی۔

یہ اعلان اب سیاسی حلقوں میں کئی سوالات پیدا کر رہا ہے کہ آخر تحریک انصاف نے فوری تصادم کے بجائے تقریباً دو ماہ کا وقفہ کیوں رکھا؟ کیا یہ تنظیمی تیاری کا مرحلہ ہے، یا پارٹی موجودہ سیاسی حالات کو اپنے حق میں تبدیل ہونے کا انتظار کر رہی ہے؟

تحریک انصاف کے اندر موجود حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور اس کے اتحادی سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق معاشی مشکلات، مہنگائی، حکومتی فیصلوں پر عوامی ناراضی اور ریاستی نظام کے اندر موجود کشیدگی مستقبل میں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

پارٹی کے بعض رہنما یہ بھی سمجھتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے فوری احتجاجی تصادم سے زیادہ فائدہ اس وقت سیاسی ماحول کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر سیاسی نظام مزید دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو تحریک انصاف کو ایک بڑا موقع مل سکتا ہے۔

یہ سوچ اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان کو تحریک انصاف کے حلقوں نے اس بات کے اعتراف کے طور پر لیا کہ موجودہ سیاسی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسی طرح عسکری سطح پر بعض تقرریوں، ترقیوں اور ادارہ جاتی فیصلوں سے متعلق بحث نے بھی سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو بڑھایا ہے۔

تاہم 5 اگست کے احتجاج نے تحریک انصاف کی زمینی طاقت کے حوالے سے ایک مختلف تصویر بھی پیش کی۔

لاہور، جو ماضی میں تحریک انصاف کے بڑے سیاسی مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے، وہاں احتجاج کی سرگرمیاں محدود رہیں۔ ایوان عدل کے مقام پر چند وکلا اور کارکن سامنے آئے، جبکہ تحریک انصاف کے چند ارکان اسمبلی نے گرفتاری پیش کی۔ بعض مقامی رپورٹس میں کارکنوں کی تعداد کو چند درجن سے لے کر سو ڈیڑھ سو تک بیان کیا گیا۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا تحریک انصاف پنجاب میں اپنی سابقہ عوامی گرفت برقرار رکھ پا رہی ہے یا سیاسی دباؤ، گرفتاریوں اور تنظیمی مشکلات نے اس کی سڑکوں پر طاقت کو محدود کر دیا ہے؟

دوسری جانب سیالکوٹ میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کراچی سمیت بعض دیگر شہروں میں بھی احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی اطلاعات ملیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 5 اگست کا احتجاج تحریک انصاف کے لیے صرف ایک طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ تنظیمی صلاحیت کا امتحان بھی تھا۔ ان کے مطابق اگرچہ پارٹی کے پاس عوامی ہمدردی موجود ہے، لیکن اسے سڑکوں پر منظم طاقت میں تبدیل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

خصوصاً پنجاب کی صورتحال تحریک انصاف کے لیے سب سے اہم سوال ہے۔ بعض سیاسی کارکنوں اور مقامی ذرائع کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے لیے عوامی حمایت مضبوط نہیں، لیکن تحریک انصاف کے ووٹرز میں بھی ایک قسم کی بددلی پائی جاتی ہے۔

اس بددلی کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک طرف مہنگائی، روزگار اور معاشی مشکلات نے عام شہریوں کو اپنے روزمرہ مسائل میں الجھا دیا ہے، دوسری طرف سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں اور دباؤ کے ماحول نے بھی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹر کی ناراضی ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ انتظار کی کیفیت میں ہے۔ ان کے مطابق عوامی ہمدردی اور عملی سیاسی شرکت کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔

تحریک انصاف کے لیے اصل امتحان اب 27 ستمبر کا اعلان ہے۔ اگر پارٹی اسے ایک بڑے سیاسی اقدام میں تبدیل کرتی ہے تو اسے نہ صرف کارکنوں کو متحرک کرنا ہوگا بلکہ پنجاب جیسے اہم صوبے میں اپنی سڑکوں پر موجودگی بھی ثابت کرنا ہوگی۔

دوسری طرف حکومت اور ریاستی اداروں کے لیے بھی چیلنج کم نہیں۔ سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں کئی بار ایسے مواقع آئے ہیں جب بظاہر کمزور نظر آنے والی تحریکیں اچانک طاقتور ہوئیں، اور کئی بار بڑے دعوے عملی میدان میں کمزور ثابت ہوئے۔

5 اگست کا احتجاج اسی بڑے سیاسی سوال کی ایک جھلک تھا: کیا تحریک انصاف انتظار کی سیاست کے ذریعے فائدہ اٹھائے گی، یا سڑکوں پر اپنی طاقت دوبارہ ثابت کرنے کے لیے ایک بڑے امتحان کا سامنا کرے گی

مزید پڑھیں