انفینٹینو کے تجارتی منصوبے کو یورپی فٹبال اداروں اور اندرونی مخالفت کا سامنا
انفینٹینو کے تجارتی منصوبے کو یورپی فٹبال اداروں اور اندرونی مخالفت کا سامنا
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے ورلڈ کپ سے متعلق تجارتی سرگرمیوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کا متنازع منصوبہ واپس لے لیا ہے۔ یہ فیصلہ فیفا صدر جانی انفینٹینو کے ایک بڑے تجارتی منصوبے کے شدید ردعمل کے بعد سامنے آیا، جسے یورپی فٹبال تنظیموں، دیگر کنفیڈریشنز اور فیفا کے بعض اعلیٰ حکام کی مخالفت کا سامنا تھا۔
منصوبے کے مطابق فیفا ایک نئی تجارتی کمپنی فیفا فارورڈ انٹرپرائز قائم کرنا چاہتی تھی، جس کے تحت نشریاتی حقوق، اسپانسر شپ، ٹکٹنگ، لائسنسنگ اور ٹورنامنٹ سے متعلق آمدنی کے تمام بڑے شعبوں کو ایک ہی ادارے کے تحت لایا جانا تھا۔
فیفا کا کہنا تھا کہ وہ اس کمپنی میں اکثریتی کنٹرول اپنے پاس رکھے گی، جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو محدود اور غیر فیصلہ کن حصص دیے جائیں گے۔ امریکی سرمایہ کاری کمپنی تھرائیو ایٹرنل کے ذریعے سرمایہ کار جوشوا کشنر کو ممکنہ بڑے سرمایہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
تاہم اس منصوبے نے فٹبال کی دنیا میں خدشات پیدا کیے کہ نجی سرمایہ کاری کے ذریعے کھیل کے سب سے بڑے عالمی ایونٹ کے مالی ڈھانچے پر بیرونی اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ یورپی فٹبال تنظیم یو ای ایف اے سمیت کئی حلقوں نے اس تجویز پر اعتراض کیا۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ صرف ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ عالمی کھیل کا ایک مشترکہ اثاثہ ہے، اس لیے اس کے مالی فیصلوں میں شفافیت اور تمام رکن ممالک کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔
فیفا صدر جانی انفینٹینو نے اس منصوبے کو عالمی فٹبال کی آمدنی بڑھانے اور رکن ممالک کے لیے مزید مالی وسائل پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا تھا، لیکن بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث فیفا کو اپنا منصوبہ ختم کرنا پڑا۔
فیفا کو اس سے قبل بھی بڑے تجارتی اور انتظامی فیصلوں پر مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ ورلڈ کپ کے مالی اختیارات، ٹورنامنٹ کے پھیلاؤ اور تنظیم کے طرزِ حکمرانی پر انفینٹینو کے دور میں کئی بار بحث ہو چکی ہے۔
ورلڈ کپ میں حصص فروخت کرنے کی تجویز کا خاتمہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ عالمی کھیلوں کے ادارے تجارتی توسیع اور کھیل کی خودمختاری کے درمیان توازن کیسے قائم کریں گے


