خواجہ آصف کا محسن نقوی کو جواب،: نظام میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں
خواجہ آصف کا محسن نقوی کو جواب،: نظام میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں
وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک کے نظامِ حکمرانی میں بڑی تبدیلی (ری سیٹ) کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نظام کو مضبوط بنانا ہے تو اس کا آغاز متعلقہ آئینی فورمز اور عملی اقدامات سے ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ ملک کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے اور کئی دہائیوں سے نظام کو ذاتی اور گروہی مفادات نے متاثر کیا ہے، تاہم ایسی بڑی تبدیلیوں پر بحث پارلیمنٹ یا کابینہ کے پلیٹ فارم پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اپنے ہی محکمے سے اصلاحات کا آغاز کریں اور نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے کئی نکات پر عملدرآمد وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی تنقید کی کہ محسن نقوی کابینہ اور پارلیمنٹ کے رکن ہونے کے باوجود ان فورمز پر کم نظر آتے ہیں، جبکہ نظام میں تبدیلی کے لیے آئینی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ محسن نقوی نے حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظامِ حکمرانی مؤثر طریقے سے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور بہتر عوامی خدمات، انصاف اور احتساب کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر غور ہونا چاہیے۔ ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔


