پاکستان کے ریاستی کنٹرولڈ نظام پر شدید دباؤ ، اقتدار کے ایوانوں سے اٹھنے والی آوازیں کشمیر بلوچستان اور کے پی سے توجہ ہٹانا ہے ؟
پاکستان کے ریاستی کنٹرولڈ نظام پر شدید دباؤ ، اقتدار کے ایوانوں سے اٹھنے والی آوازیں کشمیر بلوچستان اور کے پی سے توجہ ہٹانا ہے ؟
اسلام آباد :پاکستان کے ریاستی منظرنامے میں ایک غیر معمولی بے چینی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کے اندر سے ہی ایسی آوازیں سامنے آ رہی ہیں جو موجودہ نظام کی کارکردگی، حکمرانی کے انداز اور سیاسی سمت پر سوالات اٹھا رہی ہیں، دوسری جانب کشمیر میں ہونے والی شورش ، انتخابات، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کی صورتحال نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے
وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی، جو حکومت میں کئی اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں، کے بارے میں سیاسی حلقوں میں پہلے ہی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ طاقت کے اصل مرکز کی نمائندگی کرتے ہیں،اور اس موجود نظام کے سب سے زیادہ بینفشری تصور کیے جاتے ہیں ، حالیہ دنوں میں ان سے منسوب بیانات اور سیاسی سرگرمیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا موجودہ حکومتی ڈھانچہ اندرونی اختلافات کا شکار ہو چکا ہے یا ڈھانچہ بنانے والے خود اس ڈھانچے میں نئی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں
حکومتی حلقوں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بعض معاملات پر وضاحتیں طلب کر رہے ہیں، لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کے اعتماد کے بحران کا ہے،
اسی دوران استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما علیم خان، جو محدود پارلیمانی نمائندگی کے باوجود حکومت کا حصہ ہیں، اور انکے بارے میں بھی یہی تصور ہے کہ انہیں بھی پنڈی نے مسلط کیا ہے ، نے بھی ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھائے ہیں،ان کے بیانات نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت، بالخصوص نواز شریف اور شہباز شریف کی پالیسیوں پر ایک نئی بحث شروع کر دی ہے، پھر رہی سہی کسر ڈی جی آئ ایس پی آر نے یہ کہکر پوری کردی کہ اصل مسئلہ حکومتی رٹ اور خراب انتظامی معاملات ہیں ،
یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب وفاقی وزیر احسن اقبال نے “فارم 47” سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ پارلیمانی نظام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے تو پھر اس اعتراض کا اطلاق دیگر اُن پر بھی ہوتا ہے جنہیں آپ صدر بنانا چاہتے ہیں ان کا اشارہ واضع طور پر فیلڈ مارشل کی جانب تھا جنکے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ہر آرمی چیف کی طرح بالخصوص ، ایوب خان ، ضیا اور مشرف کی طرح صدر بننے کے خواب دیکھ رہے
تاہم سیاسی تنازعے کے درمیان ایک اور بڑا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے یا اسے پسمنظر میں دھکیلنے کے لیے ہی یہ نیا منظر بنایا گیا ہے ، وہ ہے آزاد کشمیر کی صورتحال
آزاد کشمیر میں پہلے سے موجود شورش ، پھر انتخابات کے دوران کشیدگی، احتجاجی واقعات اور جانی نقصان نے سیاسی ماحول کو متاثر کیا ہے۔ مظفرآباد ڈویژن سمیت مختلف علاقوں میں حالات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق گزشتہ واقعات میں سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، جبکہ انتخابی عمل اور عوامی شرکت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، پہلے مرحلے کے انتخابات میں کم ٹرن آؤٹ نے سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ عوام کا اعتماد کیوں کم ہو رہا ہے
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بھی ایک پرانا تنازع ہے، سیاسی جماعتیں اکثر مقامی حکومتوں کے اختیارات اور انتخابات کے انعقاد پر تحفظات ہی نہیں رکھتیں بلکہ بلدیاتی انتخابات انکے چڑ ہوں ، ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں مختلف ادوار میں فوجی حکومتوں نے بلدیاتی نظام کو سیاسی جواز کے لیے استعمال کیا، جبکہ نام نہاد منتخب سیاسی حکومتیں اکثر مضبوط مقامی حکومتوں سے گریز کرتی چلی آرہی ہیں
ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں بنیادی جمہوریتوں اور مقامی حکومتوں کے تجربات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ رہے ہیں، لیکن ہر نام نہاد جمہوری ادوار میں مقامی اختیارات کی منتقلی ایک مسلسل چیلنج رہی ہے
موجودہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں، عوام مہنگائی، روزگار کے مواقع کی کمی، امن و امان کی خراب صورتحال اور عدالتی نظام پر بڑھتے ہوئے سوالات سے دوچار ہیں، کہ جنکے نتیجے میں ریاست حکومت ملکر ماورائے عدالتی قتل عام میں مصروف ہیں ، اور ان واقعات نے ریاستی اداروں کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں
پاکستان کی تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ جب عوامی مسائل بڑھتے ہیں تو سیاسی توجہ کسی نئے تنازع، احتجاج یا طاقت کے کھیل کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، موجودہ حالات میں بھی بعض حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی کشمکش عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بن رہی ہے
لیکن بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے،کوئی بھی نظام آخر کب تک عوامی اعتماد کے بغیر چل سکتا ہے؟
جعلی انتخابات سے نہ عوامی تائید حاصل کی جاسکتی ہے نہ قانون کی حکمرانی ممکن ہے ، جمہوریت کے اہم لوازمات میں سب سے پہلے شفاف انتخابات ، پھر شفاف ادارے جواب دہ حکومت اور شہریوں کے اعتماد کا نام ہے، اگر ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور طاقت کے مراکز اس اعتماد کو بحال کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو سیاسی بحران مزید گہرا سے گہرا ہی ہوتا جائے گا جیسا کے اس وقت پاکستان میں ہورہا ہے
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ کون اقتدار میں ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا نظام عوام کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے؟


