تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیم کی اصلاحات کا امتحان، 4.37 لاکھ نشستوں میں صرف 1.71 لاکھ پر داخلے
تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیم کی اصلاحات کا امتحان، 4.37 لاکھ نشستوں میں صرف 1.71 لاکھ پر داخلے
ٹی جی سی ایچ ای کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی ڈگری تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے
تلنگانہ میں 2026-27 کے تعلیمی سال کے لیے ڈگری کالجوں میں داخلوں کے اعداد و شمار نے اعلیٰ تعلیم کے روایتی نظام کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ریاستی کونسل برائے اعلیٰ تعلیم کی جانب سے نصاب میں تبدیلی، صنعت سے متعلق کورسز اور طلبہ کی عملی صلاحیتوں و روزگار کے مواقع پر توجہ دینے جیسے بڑے اصلاحاتی اقدامات کے باوجود داخلوں کی شرح توقعات کے مطابق نہیں رہی۔
تلنگانہ ڈگری آن لائن سروسز (ڈوسٹ) کے تحت ریاست کے 900 سے زائد کالجوں میں تقریباً 4.37 لاکھ انڈرگریجویٹ نشستیں دستیاب تھیں، تاہم متعدد مراحل کی کونسلنگ کے بعد صرف تقریباً 1.71 لاکھ نشستیں ہی پُر ہو سکیں۔
تلنگانہ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین وی بالا کرسٹا ریڈی نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں حقیقی تبدیلی ڈگری پروگراموں کے ذریعے لائی جا سکتی ہے اور یہ ہدف مکمل طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم داخلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں روایتی ڈگری پروگراموں کی کشش کم ہو رہی ہے اور وہ ایسے کورسز کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہے ہیں جو براہ راست روزگار، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے جڑے ہوں۔
تلنگانہ حکومت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے اب بڑا چیلنج یہ ہے کہ ڈگری تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ طلبہ اسے صرف ایک تعلیمی سند نہیں بلکہ بہتر مستقبل کے راستے کے طور پر دیکھ سکیں


