Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتذات، مذہب سے آزاد شناخت کا مطالبہ، اداکار پارتھیبان کی مدراس ہائی...

ٹرینڈنگ

ذات، مذہب سے آزاد شناخت کا مطالبہ، اداکار پارتھیبان کی مدراس ہائی کورٹ میں درخواست، تمل ناڈو حکومت سے آسان طریقہ کار بنانے کی اپیل

ذات، مذہب سے آزاد شناخت کا مطالبہ، اداکار پارتھیبان کی مدراس ہائی کورٹ میں درخواست، تمل ناڈو حکومت سے آسان طریقہ کار بنانے کی اپیل

چنئی: بھارت میں ذات اور مذہب سے بالاتر شناخت کے حق پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں معروف اداکار پارتھیبان نے مدراس ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ “کوئی ذات نہیں، کوئی مذہب نہیں” سرٹیفکیٹ کے اجرا کا عمل آسان بنایا جائے۔

اداکار نے عدالت میں مفادِ عامہ کی درخواست (پی آئی ایل) دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس حوالے سے واضح قانون سازی کرے یا سرکاری حکم نامہ جاری کرے، تاکہ ایسے سرٹیفکیٹس کے اجرا کے لیے ریونیو حکام ایک مقررہ اور مناسب مدت کے اندر کارروائی مکمل کریں۔

پارتھیبان کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو اپنی شناخت کو کسی مخصوص ذات یا مذہب سے وابستہ نہیں کرنا چاہتے، انہیں سرکاری دستاویز حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں واضح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو ایسا طریقہ کار وضع کرنے کا حکم دیا جائے جس کے تحت “ذات اور مذہب سے پاک شناخت” اختیار کرنے والے افراد کو قانونی اور انتظامی سطح پر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ معاملہ بھارت میں شناخت، ذات پات کے نظام اور آئینی مساوات کے حوالے سے جاری بحث کا حصہ ہے۔ بھارت میں اگرچہ آئین تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، لیکن سرکاری ریکارڈ، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں ذات اور مذہب سے متعلق معلومات اکثر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پارتھیبان کی درخواست ایک بڑے سماجی سوال کو سامنے لاتی ہے کہ کیا ایک شہری کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ ریاستی ریکارڈ میں اپنی شناخت کو ذات اور مذہب سے الگ رکھ سکے، اور اگر ایسا حق موجود ہے تو اس کے لیے انتظامی طریقہ کار کتنا آسان ہونا چاہیے۔

اب نظریں مدراس ہائی کورٹ پر ہیں کہ وہ اس درخواست پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور کیا تمل ناڈو حکومت کو اس معاملے میں کوئی واضح پالیسی بنانے کی ہدایت دی جاتی ہے

مزید پڑھیں