Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانراولاکوٹ سے مظفرآباد لانگ مارچ، آزاد کشمیر میں کشیدگی: چالیس ہلاکتوں کے...

ٹرینڈنگ

راولاکوٹ سے مظفرآباد لانگ مارچ، آزاد کشمیر میں کشیدگی: چالیس ہلاکتوں کے دعوے، انٹرنیٹ بندش اور انتخابات پر سوالات

راولاکوٹ سے مظفرآباد لانگ مارچ، آزاد کشمیر میں کشیدگی: چالیس ہلاکتوں کے دعوے، انٹرنیٹ بندش اور انتخابات پر سوالات

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ اور دیگر اضلاع میں جاری احتجاجی صورتحال کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، جبکہ مواصلاتی بندش اور محدود اطلاعات کی وجہ سے زمینی صورتحال کی مکمل تصدیق میں مشکل ہو رہی ہے، دستیاب رپورٹس کے مطابق احتجاجی تحریک کا مرکز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، جو سیاسی نمائندگی، مخصوص نشستوں، مہنگائی، انتظامی اختیارات اور دیگر مقامی مطالبات پر احتجاج کر رہی ہے، اسکی اپیل پر راولا کوٹ اور اطراف سے نکلنے والا لانگ مارچ جسمیں ہزاروں افراد شامل ہیں مظفر آباد کی جانب بڑھ رہا جسے روکنے کے لیے سیکورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر طاقت کے استعمال سے روکنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں ابتک چالیس سے زائد اموات اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں
راولاکوٹ میں گزشتہ جھڑپوں کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع اور سوشل میڈیا پر زیادہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں پہلے ہونے والی جھڑپوں میں متعدد ہلاکتوں کا ذکر آیا، جن میں بعض رپورٹس کے مطابق کم از کم 11 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات تھیں، جبکہ بعد کی رپورٹس میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد چالیس
سے زائد بتائی گئی
سوشل میڈیا پر بعض صارفین اور کارکنوں کی جانب سے دعوے کیے گئے ہیں کہ لانگ مارچ راولاکوٹ سے مظفرآباد کی طرف بڑھ رہا ہے اور راستے میں کشیدگی موجود ہے، اور جگہ جگہ مظاہرین اور پولیس فورسز میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران فورسز جدید اسلحہ سے براہ راست مظاہرین پر فائرنگ کررہی ہیں ،
حکومت کی جانب سے ماضی میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش، سکیورٹی تعیناتی اور گرفتاریوں جیسے اقدامات کیے گئے، بعض مقامی رپورٹس کے مطابق راولاکوٹ میں احتجاجی سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہا اور کچھ مقامات پر دھرنے کمزور بھی ہوئے
بھارتی میڈیا نے اس صورتحال کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی بے چینی کے طور پر نمایاں کیا ہے اور اسے اسلام آباد کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج قرار دیا ہے، بھارتی ذرائع میں احتجاج کو کشمیر کے اندرونی معاملات اور پاکستان کی حکمرانی کے مسائل سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے
تاہم عالمی سطح پر فوری طور پر کسی بڑے بین الاقوامی ردعمل کی اطلاعات محدود ہیں، انسانی حقوق کے حلقوں نے ماضی کی جھڑپوں کے دوران انٹرنیٹ بندش، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی تھی
یہ صورتحال پاکستانی ریاستی اداروں، خصوصاً سکیورٹی اداروں کے لیے ایک حساس امتحان بن گئی ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی اہمیت کی وجہ سے حکومت کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش کرے گی، کیونکہ طاقت کے زیادہ استعمال سے مقامی ناراضی مزید بڑھ سکتی ہے
دوسری طرف ریاستی اداروں کا مؤقف رہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی تشدد یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی
آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات بھی اس کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق سکیورٹی صورتحال کے باعث کچھ علاقوں میں انتخابی عمل کے شیڈول پر اثر پڑا اور دو اضلاع میں انتخابات ملتوی کیے گئے
اگر انتخابات مکمل بھی ہو جاتے ہیں تو بڑا سوال یہ ہوگا کہ کیا عوام انہیں حقیقی نمائندگی سمجھیں گے یا موجودہ بحران کی وجہ سے ان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق صرف حکومتیں بدلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ مقامی آبادی کے بنیادی مطالبات — روزگار، مہنگائی، اختیارات، سیاسی نمائندگی اور انتظامی خودمختاری، کو حل کرنا ہوگا
آزاد کشمیر میں ماضی کی طرح صرف انتخابی عمل عوامی ناراضی ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا، اگر نئی حکومت مقامی شکایات کو سننے، سیاسی مکالمہ بحال کرنے اور عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو احتجاجی سیاست دوبارہ ابھر سکتی ہے
اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا راولاکوٹ سے شروع ہونے والا احتجاج مذاکرات کے ذریعے ختم ہوگا یا مظفرآباد تک پہنچ کر ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم چیز آزادانہ معلومات کی دستیابی ہے، کیونکہ انٹرنیٹ بندش اور میڈیا پابندیوں نے افواہوں اور متضاد دعوؤں کو بڑھا دیا ہے۔

مزید پڑھیں