ایچ آئی وی ویکسین کی امید قریب، سائنس دانوں نے مدافعتی نظام کو وائرس کے خلاف مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کر لی
ایچ آئی وی ویکسین کی امید قریب، سائنس دانوں نے مدافعتی نظام کو وائرس کے خلاف مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کر لی
ایچ آئی وی (HIV) کے خلاف مؤثر ویکسین تیار کرنا گزشتہ چار دہائیوں سے طب کے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل رہا ہے۔ اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسی ویکسین کی تیاری کی سمت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جو وائرس کو روکنے کے لیے انسانی مدافعتی نظام کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنا سکتی ہے، لیکن ابھی تک ایسی کوئی ویکسین موجود نہیں جو عام استعمال کے لیے منظور ہو چکی ہو یا ایچ آئی وی کا مکمل علاج ثابت ہوئی ہو۔
ایچ آئی وی ایک ایسا وائرس ہے جو انسانی مدافعتی نظام کے اہم خلیوں کو نشانہ بناتا ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو ایڈز (AIDS) کا سبب بن سکتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں اس وائرس کی شناخت کے بعد دنیا بھر میں اس کے علاج اور ویکسین پر اربوں ڈالر تحقیق ہوئی، لیکن وائرس کی تیزی سے شکل بدلنے کی صلاحیت کے باعث ویکسین بنانا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔
حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے خاص طور پر وسیع اثر رکھنے والی اینٹی باڈیز (Broadly Neutralizing Antibodies) پر توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ ایسی مدافعتی پروٹینز ہیں جو ایچ آئی وی کی مختلف اقسام کو پہچان کر انہیں روک سکتی ہیں۔ نئی تحقیق کا مقصد ایسی ویکسین بنانا ہے جو جسم کو پہلے ہی یہ اینٹی باڈیز بنانے کی تربیت دے سکے۔
کیا ویکسین کامیاب ہو چکی ہے؟
ابھی تک جواب نہیں ہے۔ ایچ آئی وی کے خلاف کوئی ایسی ویکسین موجود نہیں جو بڑے پیمانے پر انسانوں میں استعمال کے لیے منظور ہو چکی ہو اور بیماری کو مکمل طور پر ختم کر دے۔
کئی تجرباتی ویکسینز کا انسانوں پر تجربہ کیا گیا، لیکن ماضی کی بڑی آزمائشوں میں کامیابی محدود رہی:
- 2009 میں تھائی لینڈ میں ہونے والی ایک بڑی آزمائش میں ایک تجرباتی ویکسین نے ایچ آئی وی سے تحفظ میں تقریباً 31 فیصد کمی دکھائی، لیکن یہ کامیابی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اسے عام استعمال کے لیے منظور کیا جا سکے۔
- 2021 اور 2023 کے دوران کچھ جدید ویکسین تجربات، جن میں ایم آر این اے ٹیکنالوجی بھی شامل تھی، نے مدافعتی ردعمل پیدا کرنے میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے، مگر وہ ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔
کیا کوئی مریض مکمل صحت یاب ہوا ہے؟
ایچ آئی وی کے مریضوں میں ویکسین کے ذریعے مکمل صحت یابی کا کوئی ثابت شدہ کیس موجود نہیں۔
البتہ دنیا میں چند ایسے نایاب کیس سامنے آئے ہیں جن میں مریض علاج کے بعد وائرس سے پاک یا طویل عرصے تک وائرس سے آزاد رہے۔ ان میں:
- برلن مریض (Berlin Patient) — جنہیں 2008 میں اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے بعد ایچ آئی وی سے نجات ملی۔
- لندن مریض (London Patient) — اسی طرح کے علاج کے بعد وائرس سے پاک قرار دیے گئے۔
- چند دیگر مریض بھی ایسے ہیں، لیکن یہ طریقہ عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں کیونکہ یہ انتہائی خطرناک، مہنگا اور مخصوص حالات میں ہی کیا جا سکتا ہے۔
یہ تعداد ایچ آئی وی کے عالمی مریضوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 4 کروڑ سے زائد افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ مکمل شفا پانے والے تصدیق شدہ کیس چند درجن سے بھی کم ہیں۔
موجودہ علاج کہاں تک کامیاب ہے؟
ایچ آئی وی کا موجودہ علاج، جسے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) کہا جاتا ہے، وائرس کو ختم نہیں کرتا لیکن اسے قابو میں رکھ سکتا ہے۔
اگر مریض باقاعدگی سے دوا لیتا رہے تو:
- وائرس خون میں اتنا کم ہو سکتا ہے کہ ٹیسٹ میں بھی نظر نہ آئے۔
- مریض معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔
- وائرس دوسرے شخص کو منتقل ہونے کا خطرہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں افراد یہ علاج حاصل کر رہے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے غریب ممالک میں ادویات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ویکسین کب تک آ سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ تحقیق کامیاب ہوئی تو ایچ آئی وی ویکسین آنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ سائنس دان محتاط امید رکھتے ہیں کہ 2030 کی دہائی میں زیادہ مؤثر ویکسین کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کوئی حتمی ویکسین تیار ہو چکی ہے۔
یہ پیش رفت اہم اس لیے ہے کہ پہلی بار سائنس دان وائرس کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے انسانی مدافعتی نظام کو اس قابل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایچ آئی وی کے خلاف خود مؤثر دفاع پیدا کر سکے


