امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی انضمام پر اختلافات شدت اختیار کر گئے، مجوزہ قانون قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار
امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی انضمام پر اختلافات شدت اختیار کر گئے، مجوزہ قانون قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار
واشنگٹن: امریکہ میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی صنعتوں اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے تعاون کو مزید گہرا کرنے کی مجوزہ قانون سازی پر کانگریس میں شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ قانون موجودہ شکل میں منظور ہوگیا تو اس سے امریکی قومی سلامتی، دفاعی خودمختاری اور ہتھیاروں کی برآمد سے متعلق فیصلوں پر غیر معمولی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظور ہونے والے سالانہ دفاعی بل میں ایک ایسی شق شامل کی گئی، جس کے تحت امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی صنعت، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بایو ٹیکنالوجی، خودکار ہتھیاروں اور دیگر حساس عسکری شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ بل ابھی قانون نہیں بنا اور اس پر سینیٹ میں غور ہونا باقی ہے
قانون کے مخالف اراکینِ کانگریس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو پہلے ہی بعض مشترکہ دفاعی منصوبوں میں ویٹو جیسے اختیارات حاصل ہیں، اور اگر تعاون کا دائرہ مزید بڑھایا گیا تو مستقبل میں امریکہ اپنی تیار کردہ بعض دفاعی ٹیکنالوجی یا ہتھیار تیسرے ممالک کو منتقل کرنے کے فیصلوں میں بھی محدود ہو سکتا ہے
دوسری جانب بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون دونوں ممالک کی عسکری برتری کو مضبوط کرے گا، نئی ٹیکنالوجی کی تیاری تیز ہوگی اور مشترکہ تحقیق سے مستقبل کے خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے گا
سیاسی مبصرین کے مطابق غزہ اور ایران سے متعلق حالیہ تنازعات کے بعد امریکہ میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر پہلے ہی بحث جاری ہے، اور اسی ماحول میں یہ مجوزہ قانون کانگریس کے اندر ایک نئے سیاسی معرکے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اب نظریں امریکی سینیٹ پر ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ دفاعی تعاون کی اس تجویز کو برقرار رکھا جاتا ہے یا اس میں بڑی تبدیلیاں کی جاتی ہیں


