سرحد ٹوٹنے کے بعد اسپین کا سخت موقف، انسانی اسمگلروں کو انتباہ، اٹلی نے بھی سرحدیں بند کردیں
سرحد ٹوٹنے کے بعد اسپین کا سخت موقف، انسانی اسمگلروں کو انتباہ، اٹلی نے بھی سرحدیں بند کردیں
میڈرڈ: مراکش سے ہزاروں تارکینِ وطن کے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کے غیر معمولی واقعے کے بعد اب اس بحران کے سیاسی اور سفارتی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے پہلی مرتبہ تفصیلی ردِعمل دیتے ہوئے اس بڑے پیمانے پر ہونے والی دراندازی کا ذمہ دار انسانی اسمگلروں کے منظم نیٹ ورک کو قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل مراکش سے تقریباً 60 ہزار تارکینِ وطن سیوٹا میں داخل ہوگئے تھے، جبکہ اس دوران پیش آنے والی افراتفری میں کم از کم 57 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بعد ازاں ہسپانوی حکام نے بڑی تعداد میں لوگوں کو واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا، اور حکام کے مطابق اب تک 48 ہزار سے زائد افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے ہیں۔
وزیرِاعظم سانچیز نے کہا کہ یہ محض غیر قانونی ہجرت کا معاملہ نہیں بلکہ اسپین کی علاقائی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے، جس میں انسانی اسمگلر بے گناہ لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا رہے ہیں۔
دوسری جانب اس بحران نے یورپ میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن نظام کے تحت سرحدی نگرانی سخت کرتے ہوئے آزادانہ آمدورفت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ یورپی حکومتیں اس خدشے کا جائزہ لے رہی ہیں کہ کہیں سیوٹا کا بحران پورے براعظم میں نئی ہجرتی لہر کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بحران کی ایک اہم وجہ اسپین کی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی ہے، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ سیوٹا یا میلیا پہنچنے کی کوشش میں سمندر سے پکڑے جانے والے تارکینِ وطن کو قانونی کارروائی کے بغیر فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد انسانی اسمگلروں نے اسی قانونی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید لوگوں کو یورپ پہنچنے پر آمادہ کیا۔
اس دوران واپس جانے والے ایک تارکِ وطن نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے دوسروں کو خبردار کیا کہ وہ اس خطرناک سفر کا رخ نہ کریں۔ اس کا کہنا تھا، “یہاں لوگ مر رہے ہیں، کسی کو بھی اس راستے پر نہیں آنا چاہیے۔”
سیوٹا اور میلیا کئی برسوں سے یورپ میں داخلے کے اہم راستے سمجھے جاتے ہیں، تاہم حالیہ بحران نے ایک بار پھر یورپی یونین کی سرحدی سلامتی، ہجرتی پالیسی اور مراکش کے ساتھ تعلقات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں


