گوگل کا سیٹلائٹ تصاویر بنانے والا اے آئی ٹول، ماہرین کو غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خدشہ
گوگل کا سیٹلائٹ تصاویر بنانے والا اے آئی ٹول، ماہرین کو غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خدشہ
گوگل کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی سیٹلائٹ امیج ٹول ماہرین اور تحقیق کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی مقامات کی ایسی مصنوعی تصاویر بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصلی لگیں اور غلط معلومات پھیلانے کا سبب بنیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ٹول صارفین کو سیٹلائٹ، فضائی اور تھری ڈی نقشہ جاتی تصاویر کی بنیاد پر تحریری ہدایات کے ذریعے نئی مصنوعی تصاویر بنانے کی سہولت دیتا ہے۔ تاہم چند ہی گھنٹوں میں بعض صارفین نے ایسے مناظر تیار کیے جن میں فرضی تباہی، تنازعات اور حساس مقامات کی جعلی تصاویر شامل تھیں، جس کے بعد ماہرین نے اس کے غلط استعمال پر سوالات اٹھائے۔
ماہرینِ جغرافیائی تحقیق اور اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی جنگی حالات، قدرتی آفات یا سیاسی واقعات سے متعلق جعلی شواہد بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جس سے عوام اور اداروں کے لیے اصل اور مصنوعی تصاویر میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔
گوگل نے بھی خدشات کے بعد اس فیچر کے استعمال کا دوبارہ جائزہ لینے اور مزید حفاظتی اقدامات شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق مصنوعی تصاویر پر نشان لگانے کے باوجود غلط استعمال روکنے کے لیے مزید مضبوط حفاظتی نظام کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام ماحولیات، تحقیق اور منصوبہ بندی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے استعمال کے لیے سخت ضابطے اور تصدیقی طریقہ کار ضروری ہیں


