ایران جنگ: 600 سے زائد امریکی فوجی زخمی، پینٹاگون کے اعداد و شمار پر شفافیت کے سوالات
ایران جنگ: 600 سے زائد امریکی فوجی زخمی
، پینٹاگون کے اعداد و شمار پر شفافیت کے سوالات
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اب تک 624 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کے تازہ ترین ریکارڈ کے مطابق ان میں سے 417 زخمی آپریشن “ایپک فیوری” جبکہ 207 دیگر بیرونِ ملک کارروائیوں سے منسلک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اپریل میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور جون میں ایک مفاہمتی یادداشت بھی طے پائی، تاہم دونوں جانب سے حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
پینٹاگون نے حال ہی میں اپنے جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار میں تبدیلیاں کیں، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ چار ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام پہلے ایک آپریشن کے تحت درج تھے، بعد میں انہیں ایک نئی قسم “اوورسیز آپریشنز” کے تحت منتقل کر دیا گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار میں خاموش تبدیلیاں عوام کو مکمل معلومات فراہم کرنے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ بعض امریکی قانون سازوں نے بھی پینٹاگون سے وضاحت طلب کی ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے اعداد و شمار میں تبدیلیوں کو عارضی تکنیکی مسائل قرار دیا ہے۔
ایران جنگ: 600 سے زائد امریکی فوجی زخمی
، پینٹاگون کے اعداد و شمار پر شفافیت کے سوالات
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اب تک 624 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کے تازہ ترین ریکارڈ کے مطابق ان میں سے 417 زخمی آپریشن “ایپک فیوری” جبکہ 207 دیگر بیرونِ ملک کارروائیوں سے منسلک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اپریل میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور جون میں ایک مفاہمتی یادداشت بھی طے پائی، تاہم دونوں جانب سے حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
پینٹاگون نے حال ہی میں اپنے جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار میں تبدیلیاں کیں، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ چار ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام پہلے ایک آپریشن کے تحت درج تھے، بعد میں انہیں ایک نئی قسم “اوورسیز آپریشنز” کے تحت منتقل کر دیا گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار میں خاموش تبدیلیاں عوام کو مکمل معلومات فراہم کرنے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ بعض امریکی قانون سازوں نے بھی پینٹاگون سے وضاحت طلب کی ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے اعداد و شمار میں تبدیلیوں کو عارضی تکنیکی مسائل قرار دیا ہے۔


