امریکی انشورنس کمپنیوں سے مبینہ فراڈ کا الزام، کراچی میں گرفتار دو ملزمان کا این سی سی آئی اے کو جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا
امریکی انشورنس کمپنیوں سے مبینہ فراڈ کا الزام
، کراچی میں گرفتار دو ملزمان کا این سی سی آئی اے کو جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا
کراچی: کراچی کی ایک عدالت نے امریکی انشورنس کمپنیوں سے مبینہ فراڈ کے الزام میں گرفتار دو افراد کو قومی سائبر جرائم تحقیقاتی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے جسمانی ریمانڈ پر دے دیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق دونوں ملزمان حیدر عمرانی اور ایان نجیب کو خفیہ اطلاع پر گلستانِ جوہر میں قائم ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ڈیجیٹل آلات بھی قبضے میں لیے گئے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر ڈارک ویب سے حاصل کیے گئے امریکی شہریوں کے ذاتی کوائف استعمال کرتے ہوئے امریکی انشورنس کمپنیوں کو دھوکا دے رہے تھے۔ ان کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ وہ فرار ساتھیوں کے ساتھ مل کر کال سینٹر چلا رہے تھے، جہاں امریکی شہریوں کی معلومات استعمال کر کے طبی انشورنس کی ادائیگیوں کے جعلی دعوے کیے جاتے تھے۔
حکام کے مطابق مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقوم مختلف امریکی ریاستوں میں قائم شیل کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں وصول کی جاتیں، جس کے بعد انہیں حوالہ ہنڈی کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جاتا تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے مزید ڈیجیٹل شواہد، ادائیگی کے ذرائع اور دیگر مبینہ ساتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا باقی ہیں۔


