خلیج میں جنگ بندی خوش آئند ، مستقل امن کے لیے سفارت کاری کا عمل آگے بڑھانا ضروری
خلیج میں جنگ بندی خوش آئند
، مستقل امن کے لیے سفارت کاری کا عمل آگے بڑھانا ضروری
علاقائی ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، کی سفارتی کوششوں نے ممکنہ طور پر دونوں فریقوں کو ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ جنگ میں وقفہ اور خلیجی خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم امید ہے کہ مذاکراتی عمل دوبارہ بحال ہوگا اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ مذاکرات کو موقع دیا جائے اور بات چیت کے لیے وقت فراہم کیا جائے۔ تاہم امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، جن کی صدر ٹرمپ نے تردید کی، کہ امریکا کے پاس جنگی سازوسامان اور گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے بعض اعلیٰ فوجی حکام نے بھی پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کو ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھانے سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جنگ روکنے کے فیصلے میں بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات نے بھی کردار ادا کیا۔
مزید برآں، خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث خطے کی معیشت، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے جنگ بندی کو نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب عارضی جنگ بندی کو مستقل امن، اعتماد سازی اور جامع سفارتی معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے


