مصنوعی ذہانت کو بند کرنے کے اختیار پر کانگریس میں بحث، اوپن اے آئی اور گوگل ڈیپ مائنڈ نے اپنا مؤقف پیش کر دیا
مصنوعی ذہانت کو بند کرنے کے اختیار پر کانگریس میں بحث، اوپن اے آئی اور گوگل ڈیپ مائنڈ نے اپنا مؤقف پیش کر دیا
واشنگٹن: امریکی کانگریس میں مصنوعی ذہانت کے طاقتور نظاموں کو ہنگامی صورتِ حال میں بند کرنے کے ممکنہ اختیار یعنی “اے آئی کِل سوئچ” پر بحث کے دوران دنیا کی بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں نے اپنا دفاع پیش کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی اور گوگل ڈیپ مائنڈ نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات ضروری ہیں، تاہم ایسے قوانین بنانے میں احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ جدت اور تحقیق متاثر نہ ہو۔
کانگریس کے بعض ارکان کا مؤقف ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کے نظام اگر قابو سے باہر ہو جائیں یا ان کا غلط استعمال ہو تو حکومت کے پاس فوری مداخلت اور انہیں محدود کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں خبردار کر رہی ہیں کہ ایک وسیع اختیارات والا “بند کرنے کا بٹن” تحقیق، کاروباری ترقی اور عالمی مقابلے میں امریکہ کی برتری کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر راستہ واضح حفاظتی معیار، نگرانی کے نظام اور ذمہ دارانہ ترقی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے مطابق یہ بحث آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی کے مستقبل کا تعین کر سکتی ہے، کیونکہ حکومتیں ایک طرف خطرات کو کم کرنا چاہتی ہیں اور دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو روکنا نہیں چاہتیں۔
کانگریس میں جاری یہ بحث اس بڑے سوال کے گرد گھوم رہی ہے کہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام پر آخری اختیار کس کا ہونا چاہیے — ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں کا، حکومت کا یا کسی آزاد نگرانی کے ادارے کا


