Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانشرحِ سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری حلقوں میں اختلاف، سرمایہ...

ٹرینڈنگ

شرحِ سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری حلقوں میں اختلاف، سرمایہ کار مطمئن، صنعتکار نالاں

شرحِ سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر کاروباری حلقوں میں اختلاف،

سرمایہ کار مطمئن، صنعتکار نالاں

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مختلف کاروباری حلقوں کی آراء منقسم ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندہ تنظیم نے اس فیصلے کو محتاط اور متوازن قرار دیا، جبکہ مقامی صنعتکاروں اور تاجروں نے اسے معاشی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے مطابق موجودہ معاشی حالات، مہنگائی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شرحِ سود برقرار رکھنا مناسب فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بہتری اور بعض صنعتی شعبوں میں بحالی کے آثار نظر آ رہے ہیں، تاہم مہنگائی اب بھی اسٹیٹ بینک کے ہدف سے زیادہ ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مالیاتی خطرات کے باعث احتیاط ضروری ہے۔
دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے اس فیصلے کو معاشی سکڑاؤ کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلند شرحِ سود صنعتوں کی بحالی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے لیے نقصان دہ ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ پیداواری لاگت، بجلی، گیس اور مالیاتی اخراجات پہلے ہی بہت زیادہ ہیں، اس لیے شرحِ سود کو ایک ہندسے میں لایا جانا چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور دیگر تاجر تنظیموں نے بھی کہا کہ بلند شرحِ سود کے باعث نئی سرمایہ کاری سست پڑ رہی ہے، صنعتی توسیع رک رہی ہے اور پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ شرحِ سود میں کمی کر کے معیشت کو سہارا دیا جائے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

مزید پڑھیں