پاکستان کو منظم جرائم کے خلاف صرف کارروائی نہیں، مضبوط نظام بھی درکار
پاکستان کو منظم جرائم کے خلاف صرف کارروائی نہیں، مضبوط نظام بھی درکار
سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز نے کہا ہے کہ پاکستان نے منظم جرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف اہم اقدامات کیے، جن کے نتیجے میں 2022 میں ملک کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالا گیا، تاہم ملک اب بھی نگرانی کے مرحلے میں ہے، جس کے باعث انسدادِ منظم جرائم کے اقدامات کا مؤثر نفاذ مسلسل ضروری ہے۔
انہوں نے لکھا کہ گلوبل آرگنائزڈ کرائم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 193 ممالک میں 45ویں نمبر پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک منظم جرائم کے خطرے سے زیادہ متاثر اور ان کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے کمزور ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق صرف مجرموں کے خلاف کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ ایسے عوامل کو بھی ختم کرنا ہوگا جو جرائم کو فروغ دیتے ہیں۔
مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی کمزوری کی پانچ بڑی وجوہات سیاسی قیادت اور طرزِ حکمرانی، عدالتی نظام، حکومتی شفافیت و احتساب، معاشی نگرانی کے اداروں کی محدود صلاحیت، اور گواہوں و متاثرین کے تحفظ کے ناقص نظام ہیں۔ مصنف کے مطابق ان شعبوں میں اصلاحات کے بغیر منظم جرائم کے خلاف کامیابی عارضی ثابت ہوگی۔
طارق پرویز نے تجویز دی کہ انسدادِ منظم جرائم کی قومی حکمتِ عملی میں صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ حکمرانی، شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کو بھی برابر اہمیت دی جائے، تاکہ جرائم کے بنیادی اسباب کا مؤثر خاتمہ ممکن ہو سکے۔


