Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکینیڈاکینیڈا جوہری ہتھیاروں کے خلاف، مگر صلاحیت پہلے سے زیادہ قریب؟

ٹرینڈنگ

کینیڈا جوہری ہتھیاروں کے خلاف، مگر صلاحیت پہلے سے زیادہ قریب؟

کینیڈا جوہری ہتھیاروں کے خلاف، مگر صلاحیت پہلے سے زیادہ قریب؟

سی بی سی کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کینیڈا کی سرکاری پالیسی اب بھی جوہری ہتھیار بنانے کی مخالفت پر قائم ہے، لیکن ملک کی سویلین جوہری صنعت، یورینیم کے وسیع ذخائر اور جدید جوہری ٹیکنالوجی کے باعث کینیڈا کے لیے تکنیکی طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی راہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ مختصر ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق:

  • کینیڈا دنیا کے بڑے یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
  • ملک کے پاس کینڈو (CANDU) طرز کے ہیوی واٹر ری ایکٹرز اور جوہری ٹیکنالوجی کا کئی دہائیوں کا تجربہ موجود ہے۔
  • مستقبل میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جسے بعض ماہرین ایک ایسی ٹیکنالوجی قرار دیتے ہیں جو نظریاتی طور پر فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کا موجودہ مقصد توانائی کی پیداوار ہے۔
    تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ:
  • کینیڈا کی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
  • کینیڈا جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن ہے اور برسوں سے عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی مخالفت کرتا آیا ہے۔
  • کسی بھی ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے صرف جوہری مواد کافی نہیں، بلکہ ہتھیار کی تیاری، جانچ، ترسیلی نظام اور بین الاقوامی معاہدوں سمیت بڑے سیاسی، قانونی اور سفارتی چیلنجز بھی درپیش ہوں گے۔
    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی، روس، چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک مقابلے، اور شمالی امریکہ کی سلامتی سے متعلق نئی بحثوں نے کینیڈا میں دفاعی پالیسی پر نئی گفتگو کو جنم دیا ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ کینیڈا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

مزید پڑھیں