ٹرمپ کی دھمکیوں پر کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ ، کارنی حکومت سے منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ
ٹرمپ کی دھمکیوں پر کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ
، کارنی حکومت سے منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ
کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی تجارتی دھمکیوں کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیرِاعظم مارک کارنی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ اقدامات کا واضح منصوبہ پیش کرے۔
کنزرویٹو پارٹی کے خارجہ و کینیڈا۔امریکا تعلقات کے ناقد رکن شُوْو مجمدار نے کہا ہے کہ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر ممکنہ نئے محصولات (ٹیرف) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الاقوامی تجارت کا ہنگامی اجلاس آئندہ ہفتے منعقد کیا جائے، جہاں حکومت اپنی تحریری حکمتِ عملی پیش کرے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس پر اوٹاوا اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی کی حکومت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ کینیڈا اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر جوابی اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھنے کی صورت میں دونوں ممالک کی صنعت، صارفین اور سرحد پار کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات رکھتی ہیں۔


