اونٹاریو حکومت کا مؤقف ٹورنٹو آئی لینڈ ایئرپورٹ کی توسیع چند مخالف گروپوں کی وجہ سے رکی
اونٹاریو حکومت کا مؤقف
ٹورنٹو آئی لینڈ ایئرپورٹ کی توسیع چند مخالف گروپوں کی وجہ سے رکی
ٹورنٹو: اونٹاریو کے وزیرِ ٹرانسپورٹ پربمیت سرکاریا نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت بلی بشپ ٹورنٹو سٹی ایئرپورٹ کی توسیع کا منصوبہ مسترد کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے ایک “چھوٹے مخالف گروپ” کے دباؤ میں آکر یہ فیصلہ کیا۔
سرکاریا کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اب بھی ایئرپورٹ کو جدید بنانے اور اس کی توسیع کے منصوبے پر قائم ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صوبے کی معیشت، روزگار اور فضائی رابطوں کے لیے اہم ہے، اس لیے اسے آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کینن نے گزشتہ ہفتے منصوبہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی مشاورت کے دوران تقریباً 87 ہزار افراد نے اپنی رائے دی، جن میں سے 87 فیصد نے ایئرپورٹ کی توسیع اور جیٹ طیاروں کی اجازت کی مخالفت کی۔
ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے بھی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ سے متعلق منظور کیے گئے قانون کو واپس لے، تاہم اونٹاریو حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس قانون کو منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اس معاملے پر وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔


