Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگنوجوانوں کی اجتماعی طاقت: بھارت کا سبق اور پاکستان کا خاموش بحران

ٹرینڈنگ

نوجوانوں کی اجتماعی طاقت: بھارت کا سبق اور پاکستان کا خاموش بحران

نوجوانوں کی اجتماعی طاقت: بھارت کا سبق اور پاکستان کا خاموش بحران
تجزیہ : آفاق فاروقی
بھارت میں نوجوانوں کی ایک طویل عرصے سے بڑھتی ہوئی بے چینی اب ایک ایسی سیاسی حقیقت میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا ہے،نریندر مودی حکومت طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ استعفیٰ دینا اس کے سیاسی کلچر کا حصہ نہیں، مگر طلبہ اور نوجوانوں کی مسلسل جدوجہد نے آخرکار حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا اور وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا، اور پاکستانی نوجوانوں کو بھارتی نوجوانوں سے یہی فرق سیکھنا اور سمجھنا پڑے گا کہ سوشل میڈیا پر سرگرمی شعور تو ضرور پیدا کرتی ہے مگر دہائیوں سے قائم بے حسی کے خاتمے کے تقاضے کچھ اور بھی ہیں
بھارت جہاں نوجوانوں کی اجتماعیت کو بڑی کامیابی ملی ہے مگر یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا،اپوزیشن جماعتیں، خصوصاً جنتا کاکروچ پارٹی کے ساتھ ہی اب کانگریس، یہ مطالبہ بھی کر رہی ہیں کہ ان مظالم کا حساب لیا جائے جو احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی کارروائیوں میں سامنے آئے، تشدد کے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے، اور ان نوجوانوں کے خاندانوں کو انصاف دیا جائے جنہوں نے مبینہ طور پر پرچے لیک ہونے، نظام کی ناانصافی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کے باعث انتہائی قدم اٹھائے
اصل تبدیلی صرف ایک وزیر کے استعفے میں نہیں بلکہ اس شعور میں ہے جو نوجوان نسل میں پیدا ہوا ہے،ایک نئی سیاسی بیداری جنم لے رہی ہے جس میں لوگ صرف حکومتوں کو ووٹ دینے والے شہری نہیں بلکہ ریاستی فیصلوں کا احتساب کرنے والے فریق بننا چاہتے ہیں
بھارت کے حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس سوچ کو جنم دیا ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت کہاں ہوتی ہے؟ جواب شاید اداروں سے زیادہ معاشرے میں ہے،جب نوجوان، سول سوسائٹی، دانشور، فنکار اور عام شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ خاموشی مسئلے کا حل نہیں، تو سیاسی منظرنامہ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے
بھارت میں ایک عرصے تک خوف کا ماحول موجود رہا،بہت سے لوگ حکومت کی پالیسیوں، اقلیتوں کے مسائل، انتخابی نظام اور اداروں کے کردار پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے رہے،لیکن جب نوجوان سڑکوں پر نکلے، جب احتجاج نے ایک اجتماعی شکل اختیار کی، تو وہ طبقات بھی سامنے آنے لگے جو پہلے خاموش تھے
یہی وجہ ہے کہ اب ووٹنگ مشینوں، انتخابی شفافیت اور سیاسی اداروں کے بارے میں سوالات بھی زیادہ شدت سے اٹھ رہے ہیں،بعض حلقوں میں یہ تاثر بڑھا ہے کہ جمہوری عمل کی حفاظت صرف انتخابات کے دن نہیں بلکہ ہر دن کی شہری نگرانی سے ہوتی ہے
اسی دوران پاکستان میں ایک مختلف تصویر نظر آتی ہے،یہاں نوجوانوں میں غصہ ضرور ہے، مایوسی بھی ہے، سوشل میڈیا پر تنقید بھی ہے، لیکن وہ اجتماعی طاقت ابھی تک ایک منظم عوامی تحریک کی شکل اختیار نہیں کر سکی
پاکستان میں مسئلہ صرف حکومتوں کی کارکردگی کا نہیں بلکہ پورے نظام پر اعتماد کے بحران کا ہے،میرٹ کے خاتمے، اداروں کی کمزوری، انتخابی عمل پر سوالات، معاشی مشکلات اور سیاسی بے یقینی نے نوجوان نسل کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے
ایسے وقت میں جب نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے مرکز میں ہونا چاہیے، سیاسی نظام اکثر انہیں صرف ووٹر یا سیاسی نعرے کے طور پر دیکھتا ہے،وزیر اعظم ہاؤس میں نوجوانوں کے معاملات دیکھنے کے لیے بیٹے شہباز شریف کے دفاتر قائم کرنا یا نوجوانوں سے رابطے کے دعوے کرنا اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا نوجوانوں کو واقعی اختیار، میرٹ اور مواقع دیے جا رہے ہیں یا صرف نمائشی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ ترقیاتی فنڈز، سیاسی وعدوں اور نمائشی منصوبوں کے باوجود عام شہری کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی،یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں یہ احساس بڑھتا ہے کہ مسئلہ صرف چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح کا ہے
بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال سمیت خطے کے کئی ممالک میں عوامی تحریکوں نے حکومتوں کو چیلنج ضرور کیا، مگر ہر جگہ بڑے سیاسی نتائج سامنے نہیں آئے،اس کے باوجود ان تحریکوں نے ایک اہم سبق دیا کہ جب عوام اجتماعی طور پر متحرک ہوتے ہیں تو طاقت کے مراکز کو جواب دینا پڑتا ہے
بھارت کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مضبوط جمہوری روایت، متحرک سول سوسائٹی اور عوامی دباؤ مل کر سیاسی توازن تبدیل کر سکتے ہیں،اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اگر معاشرہ اسے برداشت کرے تو ریاستی ادارے بھی جواب دہ بنتے ہیں
پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان کب یہ سمجھیں گے کہ تبدیلی صرف سوشل میڈیا کی بحثوں سے نہیں آتی،تاریخ میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ اجتماعی عمل سے آئی ہیں
اگر لاکھوں لوگ، شہروں اور علاقوں سے، پرامن اور منظم انداز میں اپنے حقوق، شفاف نظام اور انصاف کے لیے کھڑے ہو جائیں تو کوئی بھی جمود ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا
جمہوریت کی اصل طاقت انتخابات کے دن نہیں بلکہ اس دن ظاہر ہوتی ہے جب شہری خود کو ریاست کا مالک سمجھنا شروع کر دیتے ہیں

مزید پڑھیں