Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگپورا خطہ جب چلا اٹھا تو پاکستانی غصہ کیوں خاموش ہے ؟

ٹرینڈنگ

پورا خطہ جب چلا اٹھا تو پاکستانی غصہ کیوں خاموش ہے ؟

پورا خطہ جب چلا اٹھا تو پاکستانی غصہ کیوں خاموش ہے ؟
آفاق فاروقی
جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے۔ سری لنکا میں معاشی بحران کے خلاف نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر طاقتور سیاسی خاندانوں کو چیلنج کیا، بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک نے حکومت کو شدید دباؤ میں ڈالا، نیپال میں نوجوان نسل نے سیاسی نظام کے خلاف احتجاج کیا، اور اب بھارت میں بھی نوجوانوں کے مختلف گروہ روزگار، تعلیم اور حکمرانی کے مسائل پر آواز اٹھاتے نظر آ رہے ہیں
سوشل میڈیا پر اس کے بعد ایک بنیادی سوال یہ گردش کر رہا ہے، اگر خطے کے دوسرے ممالک کے نوجوان اپنی حکومتوں اور نظام کے خلاف نکل سکتے ہیں تو پاکستان کا نوجوان ابتک خاموش کیوں ہے؟
یہ سوال بظاہر آسان ہے، مگر اس کا جواب پاکستان کی تاریخ، ریاستی ساخت، معاشی حالات، سماجی نفسیات اور سیاسی کلچر کی گہرائیوں میں چھپا ہوا ہے
پاکستان کے بارے میں کئی سیاسی مبصرین اور دانشور یہ کہتے سنائ دیتے ہیں کہ یہاں ریاستی طاقت کا توازن طویل عرصے سے ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے،برطانوی دور سے وراثت میں ملنے والا مضبوط بیوروکریٹک ڈھانچہ، فوجی مداخلتوں کی تاریخ، کمزور سیاسی ادارے اور غیر یقینی جمہوری تسلسل نے ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا کیا جہاں عوامی غصہ اکثر کسی ایک واضح مرکز پر جمع نہیں ہو پاتا
ممتاز پاکستانی اسکالر عائشہ صدیقہ نے اپنی تحریروں میں پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور عسکری اثر و رسوخ پر تفصیلی بحث کی ہے، ان کے مطابق پاکستان میں طاقت کے مراکز کی پیچیدہ تقسیم نے جمہوری اداروں کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے، ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جب ریاست کے اندر فیصلہ سازی کے کئی مراکز ہوں تو عوامی غصے کا رخ بھی منتشر ہو جاتا ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سیاسی ساخت ہی وجہ ہے؟
شاید نہیں
سیاسی سائنس میں ایک اہم نظریہ یہ ہے کہ احتجاج صرف غصے سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ احتجاج کے لیے لوگوں کے پاس وقت، وسائل، تنظیم اور مستقبل کا ایک تصور بھی ہونا چاہیے
امریکی ماہر سیاسیات سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی مشہور کتاب Political Order in Changing Societies میں لکھا تھا کہ جب معاشرے میں تبدیلی کی رفتار اداروں کی صلاحیت سے زیادہ بڑھ جائے تو سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے
پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان اپنی روزمرہ زندگی کی جنگ میں مصروف ہیں،مہنگائی، روزگار کی کمی،تعلیم کے اخراجات، خاندان کی ذمہ داریاں اور معاشی غیر یقینی نے ایک ایسے طبقے کو جنم دیا ہے جو سیاسی انقلاب سے پہلے اپنی بنیادی بقا کے بارے میں سوچتا ہے،
ایک نوجوان جس کے سامنے روزگار، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور خاندان کا خرچ سب سے بڑا مسئلہ ہو، وہ طویل سیاسی جدوجہد کے لیے کتنے وسائل نکال سکتا ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے
پاکستانی نوجوان غصے میں تو ہے، مگر متحد نہیں
پاکستان میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ نوجوان سیاسی طور پر بے حس ہے۔
حقیقت اس کے بالکل ہی برعکس ہے
سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوان سب سے زیادہ سیاسی بحث کرنے والی نسلوں میں شامل ہے، سیاسی جماعتوں، فوج، عدلیہ، معیشت اور خارجہ پالیسی پر شدید رائے موجود ہے
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ غصہ اجتماعی تحریک میں تبدیل نہیں ہو پا رہا
اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی تقسیم ہے
پاکستان میں سیاسی شناخت اکثر نظریے سے زیادہ شخصیتوں کے گرد بنتی ہے، نوجوان بڑی تعداد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی ہیں اور ہر گروہ اپنے رہنما کو نظام کی خرابیوں کا حل سمجھتا ہے، اور پھر پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست میں مذہب فرقہ بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ نوجوانوں کی ایک بڑی اکثریت ملک کی ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے پیروکار ہیں جو زندگی کے ہر مسئلے کا حل مذہب اور فرقے میں تلاش کرتے ہیں اور مذہبی سیاسی نظریات کے مخالف کو اپنا اور ملک و معاشرے کا دشمن تصور کرتے ہیں ، حالانکہ دونوں طبقات کے بنیادی مسائل روز مرہ کی مشکلات بالکل ایک جیسی ہیں مگر نظریاتی سوچ کا تضاد انہیں جڑنے سے روکتے ہیں اور پھر ریاست نے کالج یونیورسٹی میں طلبا تنظمیوں پر قدغن لگا کر انکے متحد ہونے کے تمام راستے ہی بند کردئیے ہیں
جرمن سماجی مفکر میکس ویبر نے سیاست میں “کرشماتی قیادت” کے تصور پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض معاشروں میں عوام اداروں کے بجائے شخصیات سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں
پاکستان میں بھی یہی رجحان دیکھا جاتا ہے، ایک طبقہ ایک رہنما کو نجات دہندہ سمجھتا ہے، دوسرا دوسرے کو،نتیجتاً نظام پر مشترکہ سوال اٹھانے کے بجائے سیاسی جنگ شخصیات کے درمیان منتقل ہو جاتی ہے
جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں نوجوان تحریکیں اس لیے کامیاب ہوئیں کہ انہیں ایک واضح مطالبہ، ایک مشترکہ دشمن اور ایک متحدہ شناخت مل گئی، یہ الگ بات ہے جہاں جہاں نوجوانوں کی تحریکیں کے نتیجے میں کوئ تبدیلی آئ بھی تو وہ وقتی ہی ثابت ہوئ ، اس نتیجے نے بھی پاکستانی طلبا یا نوجوانوں کو بڑی حد تک مایوس کیا ہے
بظاہر سری لنکا میں مسئلہ واضح تھا، معاشی تباہی اور حکمران خاندان کے خلاف غصہ مگر جس مقصد کے لیے نوجوان باہر آئے وہ پورا نہ ہوسکا،
بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک ایک مخصوص مسئلے کے گرد منظم ہوئی، مگر اسٹیٹس کو پھر بھی نہ ٹوٹ سکا ، پھر اسی کے ساتھ
پاکستان میں صورتحال کچھ زیادہ پیچیدہ ہے
یہاں ایک ہی وقت میں کئی بحران موجود ہیں
معاشی بحران،
صوبائی اختلافات،
مرکز اور صوبوں کے تعلقات،
دہشت گردی،
انتہا پسندی،
لاپتہ افراد کا مسئلہ،
ماحولیاتی بحران،
پانی کے تنازعات،
سیاسی عدم استحکام
جب مسائل بہت زیادہ ہوں تو اجتماعی تحریک کا مرکز ویسے ہی کمزور ہو جاتا ہے
پاکستانی معاشرے کے بارے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا لوگ صبر کر رہے ہیں یا خود کو بے بس سمجھ رہے ہیں؟
فرانسیسی مفکر میشل فوکو نے طاقت کے نظام پر بحث کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طاقت صرف جبر کے ذریعے نہیں چلتی بلکہ سماجی رویوں اور ذہنی تصورات کے ذریعے بھی اپنا اثر قائم رکھتی ہے
پاکستان میں کئی دہائیوں کے سیاسی تجربے نے ایک احساس پیدا کیا ہے کہ احتجاج ہمیشہ نتیجہ نہیں دیتا، نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے، جیسا کے بنگلہ دیش اور سری لنکا کے نئے حالات نے ثابت بھی کردیا، اور
یہ احساس عوامی توانائی کو کم کر سکتا ہے
اب یہ سوال کہ کیا پاکستانی نوجوان واقعی مکمل خاموش ہے
شاید تصویر اتنی سادہ نہیں
پاکستانی نوجوان سڑکوں پر کم اور ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ نظر آتا ہے، جہاں وہ
وہ ویڈیوز بناتا ہے، بحث کرتا ہے، تنقید کرتا ہے، سیاسی مہمات چلاتا ہے، لیکن ابھی تک اس کی توانائی کسی بڑی منظم عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہوسکی
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں نوجوان آبادی بہت بڑی ہے، مگر نوجوانوں کی تنظیمی سیاست کمزور ہے، اور اسکی وجہ پہلے بیان کردی گئی ہے کہ مذہبی فرقہ وارانہ اسلامی نظام کی سوچ اور خالص مغربی جمہوری نظریات کا تصادم انہیں جڑنے سے روکتا ہے تو وہ کالج
یونیورسٹیاں، جو دنیا بھر میں سیاسی شعور کے مراکز رہی ہیں، پاکستان میں طویل عرصے سے سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں بالکل بانجھ بنا دی گئیں ہیں ، البتہ چھپتے چھپاتے یہاں جو سرگرمیاں کبھی کبھی دیکھنے سننے کو ملتی ہیں ان میں تشدد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ، جیسا کے اکثر پنجاب اور کراچی یونیورسٹیز کے حالیہ واقعات کو مثال بنایا جاسکتا ہے اور اس تشدد کی وجہ بھی مذہبی یا لسانی تفریق ہے جو ہر گھٹن زدہ معاشرے کا معمول سمجھی جاتی ہے
پاکستان کا بحران صرف یہ نہیں کہ کون حکومت کر رہا ہے
اصل سوال یہ ہے کہ ریاست، سیاست اور معاشرہ ایک دوسرے سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، رہنما آتے جاتے ہیں، لیکن مضبوط معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں ادارے مضبوط ہوں، شہری منظم ہوں اور عوام اپنے مسائل کے لیے مستقل آواز اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں
پاکستانی نوجوان کے سامنے آج سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ سیاسی ،مذہبی وابستگیوں سے آگے بڑھ کر اپنے اجتماعی مستقبل کے سوال کو کیسے دیکھتا ہے
کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قوموں کی سمت صرف حکومتیں نہیں بدلتیں بلکہ وہ نسلیں بدلتی ہیں جو اپنے وقت کے بڑے سوالات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں، مگر یہاں ایک سوچ یہ بھی پروان چڑھ رہی ہے جو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر زیر بحث ہے ‏”بنگلہ دیش کے نوجوان نکلے ، نیپال کے نکلے ، سری لنکا کے نکلے ، اب انڈیا کے نوجوان مودی کے خلاف سڑکوں پر ہیں،
اور اب یہ سوال ہے
‏پاکستان کے نوجوان کیوں احتجاج نہیں کرتے
۔۔ ؟
جواب تو یہ ھے
ہمارے صرف لیڈر کرپٹ نہیں ہماری تو عوام بھی بے ایمان ھے جب سب ایک سے ہوں تو احتجاج بنتا نہیں

مزید پڑھیں