Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

راولاکوٹ میں فوجی آپریشن، خواتین سڑکوں پر نکل آئیں، جنازوں کے ساتھ دھرنے، ڈرون حملوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات، آزاد کشمیر ایک بڑے انسانی بحران کی طرف بڑھنے لگا

آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کے شہر راولاکوٹ میں کئی ماہ سے جاری عوامی احتجاج نے اب ایک انتہائی سنگین صورت اختیار کر لی ہے,5 نومبر کو سامنے آنے والی ویڈیوز، مقامی لوگوں کی اطلاعات اور علاقے سے رابطے میں موجود ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے احتجاجی دھرنوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی، خوف و ہراس اور تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے
راولاکوٹ سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں بڑی تعداد میں خواتین ایک تعلیمی ادارے کے احاطے میں جمع دکھائی دیتی ہیں,ان میں ایک خاتون صحن کے درمیان کھڑی ہو کر نعرے لگا رہی ہے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے‘‘وہاں موجود دوسری خواتین بھی اس کے ساتھ نعرے لگاتی دکھائی دیتی ہیں,یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ احتجاج اب صرف مردوں تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین بھی براہ راست میدان میں آ چکی ہیں
ایک دوسری ویڈیو میں ایک بہت بڑا اجتماع دکھائی دیتا ہے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کا تاثر ملتا ہے,مظاہرین جنازے اپنے ساتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہاں بھی یہی نعرہ سنائی دیتا ہے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے‘‘,مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ جنازے حالیہ کارروائیوں میں جان سے جانے والے نوجوانوں کے ہیں۔ بعض مقامی اطلاعات میں 3 نوجوانوں کی ہلاکت اور بچوں کے بھی متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جو کل رات ایک ڈرون حملے میں مارے گئے
ٹیلی فون پر کشمیر سے تعلق رکھنے والے شہری نے اسلام آباد سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا،مقامی آبادی کو خدشہ تھا کہ احتجاجی مقامات پر کارروائی ہونے والی ہے،آپریشن شروع ہونے کے بعد مساجد سے اعلانات کیے گئے کہ علاقے پر حملہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں جبکہ مرد بڑی بھاری تعداد میں اپنے گھر چھوڑ کر احتجاجی مقامات پر پہنچ گئے،خواتین نے وہاں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر جان ہی دینی ہے تو ان کے بھائی، شوہر، باپ اور بیٹے سینے پر گولی کھا کر اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے
مقامی اطلاعات میں احتجاجی دھرنوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جبکہ بعض ویڈیوز میں گھروں کو آگ لگی دکھائ جارہی ہے اور چاروں طرف سے جدید اسلحہ سے کی جانے والی فائرنگ اور گولیاں فضا میں دکھانے کے ساتھ خوفناک انسانی چیخیں بھی سنای دے رہی ہیں ، بعض اطلاعات کے مطابق حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے،5 نومبر کی مختلف مقامی رپورٹوں میں کم از کم 3 سے 5 افراد کی ہلاکت اور متعدد زخمیوں کا ذکر کیا گیا ہے،اس دوران جنازوں کے ساتھ دھرنے جاری رکھنے کا منظر صورت حال کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتا ہے
یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا،آزاد کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی تحریک کئی ماہ سے جاری ہے،راولاکوٹ میں دھرنوں کا سلسلہ تقریباً 153 دن تک پہنچ چکا تھا،اس تحریک کے پس منظر میں عوامی نمائندگی، معاشی مشکلات، بنیادی سہولتوں، سرکاری مراعات اور حکومتی نظام سے متعلق متعدد مطالبات شامل ہیں،جون 2026 میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان خونریز تصادم ہوا تھا، جس میں الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم 11 افراد ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے،بعد ازاں احتجاجی تحریک اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی، اس بحران کا سب سے تشویش ناک پہلو عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات ہیں،مقامی ذرائع کے مطابق متعدد علاقوں کے راستے بند ہیں، اشیائے خورونوش اور ادویات کی ترسیل متاثر ہے اور لوگوں کو روزمرہ ضروریات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے،جون اور جولائی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں بھی راولاکوٹ اور گردونواح میں سڑکوں کی بندش، خوراک، ادویات، دودھ اور بچوں کی ضروری غذائی اشیا کی قلت اور طبی سہولتوں تک رسائی میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی تھی،اب مقامی لوگوں کے مطابق صورت حال مزید خراب ہو چکی ہے اور بعض علاقوں میں بھوک اور غذائی قلت کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے
اس تمام صورت حال کے بارے میں ایک مقامی کشمیری ذریعے نے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تقریباً 175 بتائی ہے،ان کے مطابق کئی ماہ سے جاری کارروائیوں، تصادم اور مبینہ تشدد میں بڑی تعداد میں لوگ جانیں گنوا چکے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ اب معاملہ محض احتجاجی دھرنوں یا سیاسی مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی کی بقا، خوراک، علاج اور تحفظ کا مسئلہ بن چکا ہے
دوسری طرف سکیورٹی فورسز اور احتجاجی تحریک کے درمیان محاذ آرائی ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے،مقامی آبادی کے حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ نہ فورسز پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی احتجاج کرنے والے اپنی جگہ چھوڑنے پر آمادہ ہیں،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مظاہرین نے مختلف علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب سکیورٹی کارروائیوں اور راستوں کی بندش نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے
یہ صورت حال پاکستان کی سیاسی قیادت کے لیے بھی ایک بڑا سوال بن گئی ہے،حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں اتنی سنگین کشیدگی، جانی نقصان اور انسانی مشکلات کے باوجود پاکستان کے قومی سیاسی منظرنامے میں اس معاملے پر کوئی ایسی مؤثر اور مسلسل سیاسی آواز دکھائی نہیں دے رہی جو دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے،بیرون ملک مقیم کشمیری سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور پیغامات کے ذریعے دنیا کی توجہ اس بحران کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن محض غصے، نعروں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے سے اس مسئلے کا حل نکلنے والا نہیں
پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی جاتی رہی ہے،لیکن آزاد کشمیر میں اپنے زیر انتظام علاقے کے عوام کے ساتھ پیدا ہونے والی اس صورت حال نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: اگر عوام کے حقوق، آزادی اظہار اور جان و مال کا تحفظ اصولی معاملات ہیں تو ان اصولوں کا اطلاق اپنے شہریوں پر بھی کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی نفرت، عوامی اشتعال، خواتین کی سڑکوں پر آمد اور جنازوں کے ساتھ احتجاج اس بات کا اشارہ ہے کہ طاقت کے ذریعے اس بحران کو دبانے کی کوشش مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے،ضرورت اس امر کی کی ہے خوراک سمیت تمام بنیادی انسانی ضروری اشیا کی ترسیل بحال کی جائے، زخمیوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے اور عوامی نمائندوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جائیں، بصورت دیگر یہ تصادم ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے، اسی کے ساتھ یہ امر بھی حیران کن ہے سوشل پر ایک آڈیو گردش کررہی ہے جس میں ایک شخص تحکمانہ لہجے میں کہتا سنای دیتا ہے “ اگر اٹھنے کو تیار نہیں تو بم مار دو “ دعویٰ کیا جارہا ہے بحکم دینے والا شخص کوئ اور نہیں آزاد کشمیر کا سیکٹر کمانڈر برگئیڈیر فائق ایوب ہے

قومی خبریں سے مزید