واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کے بعد اپنے پہلے صدارتی اقدام کے طور پر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس اور کابینہ روم کو قومی یادگار قرار دینے کا اعلان کیا ہے،جمعرات کو انہوں نے ایک صدارتی اعلامیے پر دستخط کیے، جس کے تحت اوول آفس، اس سے متصل آؤٹر اوول آفس اور کابینہ روم کو ’’اوول آفس نیشنل مونومنٹ‘‘ کا درجہ دیا گیا ہے،ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مستقبل کے صدور کو ان کمروں کی تاریخی اور تعمیراتی حیثیت کو تبدیل کرنے یا ان کی موجودہ شکل ختم کرنے سے روکنا ہے
ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب اس جگہ کو نہ تو تباہ کیا جا سکے گا اور نہ ہی اس کی بنیادی شکل تبدیل کی جا سکے گی،انہوں نے اسے قومی یادگار اور وفاقی تاریخی مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کرائی گئی تزئین و آرائش آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہے،ان کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی انتظامیہ اوول آفس کی بنیادی ساخت تبدیل کرنا چاہے، مثلاً اس کی گول شکل ختم کرکے اسے مربع بنانا چاہے، تو اس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اعلامیہ 1906 کے اینٹیکوئٹیز ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا ہے، جو صدر کو وفاقی حکومت کی ملکیت یا کنٹرول میں موجود تاریخی اہمیت کی حامل جگہوں کو قومی یادگار قرار دینے کا اختیار دیتا ہے،اعلامیے میں وزیر داخلہ اور نیشنل پارک سروس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان کمروں کے تاریخی کردار، تعمیراتی خصوصیات اور اہم حصوں کے تحفظ کے لیے انتظامی منصوبہ تیار کریں،کسی بڑی تبدیلی یا انہدام سے پہلے اس کی دستاویز بندی، جائزہ اور متبادل امکانات پر غور بھی لازم قرار دیا گیا ہے،تاہم اعلامیہ صدر کے اختیار کو مکمل طور پر محدود نہیں کرتا،اس میں واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل کے صدر آرائش، فرنیچر اور معمول کی انتظامی و سکیورٹی ضروریات کے تحت تبدیلیاں کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان سے عمارت کے بنیادی تاریخی اور تعمیراتی کردار کو شدید نقصان نہ پہنچے
تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے ماہرین کے نزدیک معمول کی آرائش اور کسی تاریخی مقام کی بنیادی تعمیراتی شناخت تبدیل کرنے میں فرق ہونا چاہیے،اوول آفس محض صدر کا ذاتی دفتر نہیں بلکہ امریکی تاریخ کا ایک اہم مقام ہے، جہاں کئی دہائیوں سے اہم قومی اور بین الاقوامی فیصلے ہوتے رہے ہیں،اس لیے اس کی تاریخی حیثیت کا تحفظ ایک جائز مقصد ہے، لیکن کسی ایک صدر کی ذاتی پسند کو آئندہ منتخب صدور پر مستقل طور پر مسلط کرنے کا سوال الگ قانونی اور سیاسی معاملہ ہے
ٹرمپ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کو منہدم کرکے وہاں ایک بڑے بال روم کی تعمیر کا منصوبہ بھی شروع کر چکے ہیں، جس پر تاریخی عمارت کے تحفظ اور قانونی منظوریوں کے حوالے سے اعتراضات سامنے آئے ہیں،وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کی شکست کے بعد ڈیموکریٹس وائٹ ہاؤس کے تعمیراتی منصوبوں اور ان کے مالی وسائل کی مزید جانچ پڑتال کرنا چاہتے ہیں
یوں اوول آفس کو قومی یادگار قرار دینے کا فیصلہ محض تزئین و آرائش کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے صدارتی اختیارات، کانگریس کی قانون سازی کی طاقت اور آئندہ منتخب صدر کے آئینی اختیار سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے،بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنی صدارت میں وائٹ ہاؤس کی موجودہ شکل کو مستقل تحفظ دے سکیں گے یا اگلا صدر اپنے اختیارات استعمال کرکے ان تبدیلیوں میں ردوبدل کر سکے گا؟






