Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

جنوبی امریکا میں ری پبلکنز کا دہائیوں پراناسیاسی قلعہ مسمار، 2028 کے صدارتی انتخابات کا نقشہ بدل دیا، ٹرمپ کی جماعت کو اپنے مضبوط ترین انتخابی گڑھ میں بھی شکست، ٹیکساس اور جارجیا سمیت روایتی ری پبلکن ریاستیں ڈیموکریٹس کے ہاتھ لگ گئیں

اٹلانٹا: امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے جنوبی امریکا کی سیاست میں ایک ایسا غیر معمولی زلزلہ پیدا کر دیا ہے جس نے ری پبلکن پارٹی کی کئی دہائیوں سے قائم انتخابی بالادستی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے،سابق کنفیڈریٹ ریاستوں پر مشتمل جنوب، جسے طویل عرصے سے ری پبلکنز کا ناقابلِ تسخیر سیاسی قلعہ سمجھا جاتا تھا، اس مرتبہ ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابیوں کے بعد ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے،وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ان نتائج نے نہ صرف جنوبی ریاستوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے بلکہ 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے بھی امریکی انتخابی نقشے کو یکسر بدلنے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں
ڈیموکریٹس نے شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا اور ورجینیا ، ٹیکساس ، کنساس میں سینیٹ کی نشستیں جیت کر ری پبلکنز کو بڑا دھچکا پہنچایا، جبکہ جارجیا اور ٹیکساس میں گورنر کے انتخابات میں بھی دونوں کامیابی حاصل کی،اس کے ساتھ ریاستی حکومتوں، اٹارنی جنرل، سیکریٹری آف اسٹیٹ اور دیگر اہم سرکاری عہدوں پر بھی ڈیموکریٹس نے کامیابیاں حاصل کیں،جارجیا میں تو سیاسی تبدیلی اس قدر بڑی تھی کہ ڈیموکریٹس نے ریاستی ایوانِ نمائندگان پر بھی 22 سال بعد دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ ریاستی سینیٹ میں بھی کامیابی کے انتہائی قریب پہنچ گئے، جبکہ مسسسیپی اور الاسکا جیسے ریپبلکنُ کے گڑھ میں سینٹ کے ملتوی نتائج کے اندازے ظاہر کرتے ہیں وہ بھی ریپبلکن کے لیے حیران کنُ ہی نہیں پریشان کن ہی ہوسکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید