Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کی حکمت عملی کیا ہوگی؟
انتخابی رات نیویارک کے بروکلین سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز جب امریکی کیپیٹل کے جنوب میں منعقدہ انتخابی جشن سے خطاب کے لیے اسٹیج پر پہنچے تو آدھی رات سے پہلے ہی وہاں موجود ہجوم ’’اسپیکر جیفریز، اسپیکر جیفریز‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا،جیفریز اسٹیج پر پہنچے تو پس منظر میں معروف ریپر نوٹوریئس بی آئی جی کا گانا ’’Unbelievable‘‘ بج رہا تھا،انہوں نے براہ راست کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’امریکہ واپس آ گیا ہے”پھر چند لمحے رک کر مسکرائے اور اس تاریخی کامیابی کے لمحے سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے
ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق ، تقریباً 2 سال تک ایوان نمائندگان میں اقلیتی جماعت رہنے کے بعد حکیم جیفریز کے پہلے سیاہ فام اسپیکر آف دی ہاؤس بننے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ان کی جماعت نے انتخابات میں ایسی کامیابیاں حاصل کیں جن کے نتیجے میں ریپبلکنز کانگریس میں اپنا اقتدار کھو بیٹھے،جیفریز نے جشن میں شریک کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زندگی کے ابتدائی دور ہی میں یہ سیکھ لیا تھا کہ ناکامی دراصل دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کی تیاری کا ایک موقع ہوتی ہے،ان کے بقول آج امریکہ کی عظیم واپسی کا آغاز ہو رہا ہے
چند منٹ بعد سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر بھی چند بلاکس کے فاصلے پر اپنی جماعت کی کامیابی کا جشن منا رہے تھے،انہوں نے انتخابی مہم کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کے لیے ان کے پاس صرف 5 الفاظ ہیں: ’’ریلیف آنے والا ہے”
ڈیموکریٹس کی یہ کامیابی امریکہ کے ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک پھیل گئی اور انتخابی نتائج نے ان کی اپنی توقعات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،بدھ کی صبح تک دستیاب نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کی کم از کم 29 نشستیں ریپبلکنز سے چھین چکے تھے، جن میں وہ حلقے بھی شامل تھے جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع تھا
انتخابی نتائج کے مطابق پنسلوانیا، کولوراڈو اور ورجینیا کے ان حلقوں میں بھی ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی جہاں مقابلہ سخت تھا،سینیٹ میں بھی ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا، کنساس اور آئیووا جیسی روایتی طور پر ریپبلکن ریاستوں میں کامیابیوں نے ڈیموکریٹس کو ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا،ٹائم میگزین کے تجزیے کے مطابق ان نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق حکمت عملی پر عوامی ناراضگی کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے
نئی کانگریس میں ڈیموکریٹس کو پہلی مرتبہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف صرف احتجاج اور بیانات دینے کے بجائے عملی طور پر کئی محاذ کھولنے کا اختیار حاصل ہوگا،وہ دونوں ایوانوں میں قانون سازی کا ایجنڈا طے کر سکیں گے، انتظامیہ کے عہدیداروں کو کانگریس میں طلب کرکے ان سے جواب طلب کر سکیں گے، بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کروا سکیں گے اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نامزد کیے جانے والے بعض وزرا اور وفاقی ججوں کی تقرریوں کو روکنے کی کوشش بھی کر سکیں گے
ڈیموکریٹک رہنماؤں کی نظر اب صرف اگلے 2 برس پر نہیں بلکہ 2028 کے صدارتی انتخابات پر بھی ہے،وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات، معاشی مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر اختلافات کو ایک ایسے سیاسی ایجنڈے میں تبدیل کیا جائے جس کی بنیاد پر وہ آئندہ صدارتی انتخابات میں وائٹ ہاؤس واپس حاصل کرنے کی مہم چلا سکیں،کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ٹیڈ لیو نے موجودہ صورتحال کو 2018 کے انتخابات سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ حالات پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر تبدیل ہوئے ہیں،2018 میں بھی ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور اس کے بعد حکومت اور کانگریس کے درمیان طویل سیاسی کشمکش جاری رہی تھی
ٹائم کے مطابق 2 درجن سے زائد ڈیموکریٹک رہنماؤں، انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والوں اور ارکان کانگریس سے ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف کئی محاذوں پر تحقیقات اور قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے،کیلیفورنیا کے رکن کانگریس رابرٹ گارسیا نے، جنہیں ایوان کی طاقتور اوور سائٹ کمیٹی کی سربراہی ملنے کا امکان ہے، انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صرف 2 الفاظ لکھے: ’’وکیل کر لیں”
ڈیموکریٹس کا ابتدائی قانون سازی پروگرام میڈیکیڈ میں کی جانے والی کٹوتیوں کو واپس لینے، صحت کی انشورنس پر وفاقی سبسڈی بحال کرنے، ٹرمپ کے درآمدی محصولات ختم کرنے اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے پر مشتمل ہے،اس کے علاوہ رہائش، علاج معالجے اور روزمرہ اخراجات کم کرنے کے لیے بھی تجاویز پیش کی جائیں گی،تاہم ڈیموکریٹک رہنما جانتے ہیں کہ ان کی بہت سی تجاویز کو ٹرمپ کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ صدر انہیں ویٹو کر سکتے ہیں،اس کے باوجود ان کا خیال ہے کہ عوامی حمایت رکھنے والے بل منظور کرا کے صدر کو مشکل سیاسی صورتحال میں ڈالا جا سکتا ہے
ٹائم کی رپورٹ میں اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو حکومتی بدعنوانی اور صدر کے کاروباری معاملات کی تحقیقات کو عوام کے معاشی مسائل سے جوڑنا بتایا گیا ہے،ستمبر میں ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس کی ایک اہم مشاورتی نشست میں میری لینڈ کے رکن کانگریس جیمی راسکن نے کہا تھا کہ احتساب اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا الگ الگ سیاسی موضوعات نہیں بلکہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں،ان کے مطابق وفاقی حکومت میں بدعنوانی اور عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے درمیان تعلق کو سامنے لانا ضروری ہے
ڈیموکریٹس کی منصوبہ بندی میں ٹرمپ کے کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری معاملات، ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل، قطری حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے لگژری صدارتی طیارے اور ٹرمپ کے قریبی حلقوں کو درآمدی محصولات سے چھوٹ ملنے کے الزامات کی تحقیقات بھی شامل ہیں،وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آیا بعض امیر کاروباری شخصیات اور سیاسی عطیہ دہندگان نے ٹرمپ کے ذاتی منصوبوں، بشمول وائٹ ہاؤس کے مجوزہ بال روم، کے لیے مالی معاونت کے بدلے حکومتی مراعات حاصل کیں
اس کے علاوہ ڈیموکریٹس صدر کے داماد جیرڈ کشنر کے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات اور خلیجی ممالک کے ساتھ ان کے کاروباری روابط کا جائزہ لینا چاہتے ہیں،ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر سے وابستہ سرمایہ کاری کمپنی 1789 کیپیٹل بھی ان کی تحقیقات کے دائرے میں آ سکتی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کمپنی کی سرمایہ کاری سے منسلک ایک ادارے ولکن ایلیمنٹس کو پینٹاگون سے 620 ملین ڈالر کا قرض ملا تھا،تاہم کمپنی نے کسی غلط کام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اس کے سرمایہ کاری کے فیصلوں میں شریک نہیں ہوتے،وائٹ ہاؤس نے بھی صدر کے کاروباری معاملات میں مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات مسترد کیے ہیں
ٹرمپ کے خلاف تیسری مرتبہ مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا معاملہ بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اختلاف کا باعث ہے،بعض ارکان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کے بعد مواخذے کی کارروائی ضروری ہو سکتی ہے، لیکن دوسرے رہنما سمجھتے ہیں کہ اس وقت تمام توجہ صدر کے مواخذے پر مرکوز کرنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہوگا،نیوجرسی کے سینیٹر کوری بکر کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی اپنی سیاست کا مرکز بنا لیا تو وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے،ان کے مطابق اصل توجہ امریکی عوام کے مسائل حل کرنے پر ہونی چاہیے
کیلیفورنیا کے سینیٹر ایڈم شف، جو ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں مواخذے کی کارروائی کا حصہ رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کو عوامی رائے اور سیاسی حالات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا،مواخذے کی صورت میں بھی سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جس کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے
اسی لیے ڈیموکریٹس کے درمیان ایک متبادل تجویز پر بھی بات ہو رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے بجائے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کی کوشش کی جائے،ان کے خلاف ایران، یمن، کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ غیر مجاز فوجی کارروائیوں کے الزامات پر مواخذے کی قرارداد پہلے ہی پیش کی جا چکی ہے،اس کے علاوہ ایران اور دیگر علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کے الزامات بھی زیر بحث ہیں،ایوان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ممکنہ سربراہ ایڈم اسمتھ کے مطابق ہیگسیتھ کے خلاف کارروائی سے بعض ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے
ڈیموکریٹس کے منصوبے کے مطابق نئی کانگریس کے پہلے ہی ہفتے میں ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے درآمدی محصولات واپس لینے، صحت کی انشورنس پر ختم ہونے والی سبسڈی بحال کرنے اور میڈیکیڈ میں تقریباً 1 ٹریلین ڈالر کی کٹوتیاں ختم کرنے کے لیے قانون سازی شروع کی جا سکتی ہے
اس کے علاوہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر بھی ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاری ہے، جس کے تحت صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ یا تو جنگ ختم کریں یا اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں،ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ درآمدی محصولات اور ایران جنگ دونوں ایسے معاملات ہیں جن کا براہ راست تعلق امریکہ کی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور عام شہریوں کے اخراجات سے ہے
پنسلوانیا کے رکن کانگریس برینڈن بوئل کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ٹرمپ کی ان دونوں پالیسیوں میں سے کسی ایک کو بھی تبدیل کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی،تاہم اس حکمت عملی میں رکاوٹ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کسی بھی قانون کو ویٹو کر سکتے ہیں اور ان کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے کانگریس میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی
ڈیموکریٹس ایران جنگ کے لیے مالی وسائل روکنے یا اس معاملے پر حکومتی بجٹ کی منظوری کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں،لیکن اس راستے میں خطرہ یہ ہے کہ انتخابی لحاظ سے حساس حلقوں سے منتخب ہونے والے ڈیموکریٹک ارکان پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ وہ بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں کے لیے ضروری وسائل روک رہے ہیں
ٹائم کے مطابق پارٹی کے اندر ایک اہم بحث یہ بھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ عام امریکی شہریوں کو فوری معاشی ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں،ڈیموکریٹک رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر ان کی سیاست صرف ٹرمپ مخالف مہم تک محدود رہی اور عملی طور پر عوام کے اخراجات کم نہ ہوئے تو وہ اپنی انتخابی کامیابی کے باوجود عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر سکیں گے
نیو ڈیموکریٹس نامی گروپ نے پارٹی کے لیے 5 بنیادی ترجیحات تجویز کی ہیں جن میں اشیائے خورونوش، مکانات، صحت کی سہولتوں، توانائی اور بچوں و خاندانوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کم کرنا شامل ہے،دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے نے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بچوں کی سستی نگہداشت، پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے ڈاؤن پیمنٹ میں مدد اور وفاقی سطح پر اوور ٹائم اجرت بڑھانے کی تجاویز تیار کی ہیں
ٹیکساس کے رکن کانگریس گریگ کاسر کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے ایسی واضح اور مؤثر قانون سازی ہونی چاہیے جس سے اشیا کی قیمتیں کم ہوں اور لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو،ڈیموکریٹس مصنوعی ذہانت کے ضابطوں، ڈیٹا سینٹرز اور تولیدی صحت کے معاملات پر بھی قانون سازی کرنا چاہتے ہیں
پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر ٹرمپ ان عوامی حمایت رکھنے والی تجاویز کو ویٹو کرتے ہیں تو اس سے 2028 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو یہ بتانے کا موقع ملے گا کہ انہوں نے عوام کے لیے کیا اقدامات تجویز کیے تھے اور صدر نے انہیں کیوں مسترد کیا
ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکیم جیفریز کے اسپیکر بننے کا راستہ تقریباً ہموار دکھائی دیتا ہے، جبکہ سینیٹ میں چک شومر کے دوبارہ اکثریتی رہنما بننے کے امکانات بھی موجود ہیں،ٹائم سے گفتگو کرنے والے متعدد سینیٹرز اور سیاسی حکمت عملی کے ماہرین کے مطابق شومر نے اس انتخابی مہم میں ریپبلکنز کی نشستیں حاصل کرنے والے امیدواروں کو آگے لانے اور پارٹی کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا
تاہم حکیم جیفریز کے لیے پارٹی کے تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنا ایک بڑا چیلنج ہوگا،ان کی حمایت کرنے والے ارکان کی تعداد زیادہ ہے لیکن ترقی پسند دھڑے کے بعض ارکان ان کی محتاط سیاسی حکمت عملی سے مطمئن نہیں،نئی منتخب ہونے والے بعض ارکان خود کو ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ سے الگ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پارٹی زیادہ واضح ترقی پسند ایجنڈا اپنائے
پانچ نئے منتخب ہونے والے سوشلسٹ ارکان نے پہلے ہی اپنی مشترکہ حکمت عملی پر کام شروع کر رکھا ہے،وہ میڈیکیئر فار آل، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خاتمے اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے جیسے معاملات پر پارٹی قیادت سے مطالبات کر سکتے ہیں،نیویارک سے منتخب ہونے والی کلیئر ویلڈیز نے اس گروپ کو فی الحال ’’بلاک‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کے تمام ممکنہ راستے کھلے رکھنا چاہتے ہیں
دوسری جانب نیوجرسی کے اعتدال پسند ڈیموکریٹ رکن کانگریس جوش گوٹ ہائمر کا کہنا ہے کہ میڈیکیئر فار آل اور اسرائیل سے متعلق بعض مطالبات پارٹی کے اندر مزید اختلافات پیدا کر سکتے ہیں،ان کے مطابق 2028 میں وائٹ ہاؤس واپس حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیموکریٹس ایک قابل عمل اور عوامی حمایت رکھنے والا پروگرام پیش کریں
ٹائم کی رپورٹ کے مطابق حکیم جیفریز کی قیادت میں پارٹی کے اندر اختلاف رکھنے والے ارکان کو قابو میں رکھنے کے لیے بعض تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں،ان میں پارٹی کے طے کردہ طریقہ کار کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان کو اہم کمیٹیوں کی رکنیت یا قیادت سے محروم کرنا اور پارٹی کے انتخابی فنڈ میں مالی تعاون کو بھی سیاسی عہدوں کے لیے اہمیت دینا شامل ہے،تاہم ترقی پسند ارکان نے ان تجاویز پر سخت اعتراض کیا ہے اور انہیں پارٹی کے اندر اختلاف رائے محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے
اس طرح ڈیموکریٹس کے سامنے ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے، معاشی مسائل پر قانون سازی کرنے اور مختلف تحقیقات کے ذریعے حکومتی احتساب یقینی بنانے کا موقع ہے، تو دوسری طرف اپنی ہی جماعت کے اعتدال پسند اور ترقی پسند دھڑوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا بھی ضروری ہے،ٹائم کے تجزیے کے مطابق آئندہ 2 برس امریکی سیاست میں کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان شدید محاذ آرائی اور قانون سازی میں تعطل کے سال ثابت ہو سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید