دیوالیہ پن پہلے بتدریج پھر اچانک آتا ہے : تین دہائیوں سے سینیٹ میں موجود سوزن کولنز کا سیاسی زوال
ریپبلکن پارٹی کی سینئر سینیٹر سوزن کولنز کی شکست کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی غیر معمولی کامیابی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مقبولیت میں کمی کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے،دی گارڈین کے تجزیے کے مطابق، تقریباً 30 سال تک ریاست مین کی نمائندگی کرنے والی کولنز کو ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن نے شکست دے کر ان کی چھٹی سینیٹ مدت حاصل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی
اس انتخاب کا ایک غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ ٹرائے جیکسن نے صرف 101 دن کی انتخابی مہم کے دوران ایک ایسی سیاست دان کو شکست دی جو تین دہائیوں سے ریاستی اور قومی سیاست میں مضبوط مقام رکھتی تھیں،جیکسن نے اپنی انتخابی مہم میں محنت کش طبقے کے مسائل کو مرکزی حیثیت دی اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی عوامی ناراضگی کو اپنے حق میں استعمال کیا
رابرٹ ٹیٹ کے تجزیے کے مطابق، کولنز کی شکست ابتدا میں ناقابل تصور دکھائی دیتی تھی،وہ اس سے پہلے بھی کئی سخت انتخابی مقابلوں سے کامیابی کے ساتھ نکل چکی تھیں اور ان کے سیاسی تجربے اور مضبوط انتخابی بنیاد کو ان کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جا رہا تھا،لیکن انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ اس مرتبہ ووٹروں کا غصہ روایتی سیاسی حیثیت اور تجربے پر غالب آگیا
رپورٹ میں ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول دی سن آل سو رائزز کے ایک مشہور جملے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ دیوالیہ پن پہلے آہستہ آہستہ آتا ہے اور پھر اچانک،گارڈین کے مطابق، سوزن کولنز کا سیاسی زوال بھی اسی انداز میں سامنے آیا،ان کی شکست محض ایک سینیٹر کی انتخابی ناکامی نہیں بلکہ مین سمیت کئی ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی بے اطمینانی کی عکاسی کرتی ہے





