Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

بڑی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں دھڑے بندی ختم کرکے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے لیے تیار

بڑی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں دھڑے بندی ختم کرکے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے لیے تیار
امریکی وسط مدتی انتخابات میں توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نظریاتی اختلافات رکھنے والے گروپوں نے باہمی محاذ آرائی کم کرکے مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا ہے،پولیٹیکو کی صحافی رائلی راجرسن کے مطابق، انتخابات سے قبل پارٹی کے ترقی پسند اور اعتدال پسند دھڑے ایوانِ نمائندگان میں محدود اکثریت کی صورت میں اپنے اثرورسوخ کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے کی تیاری کر رہے تھے، لیکن اب ڈیموکریٹس کی ممکنہ 260 نشستوں تک کامیابی نے سیاسی صورت حال تبدیل کردی ہے
نئے ایوان میں اعتدال پسند نیو ڈیموکریٹ کولیشن کے ارکان کی تعداد کم از کم 140 ہونے کی توقع ہے، جبکہ اس سے بھی زیادہ قدامت پسندانہ معاشی و سیاسی مؤقف رکھنے والے بلیو ڈاگ کولیشن کے ارکان 20 سے تجاوز کرسکتے ہیں،دوسری جانب ترقی پسندوں کے کانگریشنل پروگریسو کاکس میں 100 سے زیادہ ارکان شامل ہونے کا امکان ہے، جن میں 6 خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دیتے ہیں
اس غیر معمولی کامیابی کا اہم سیاسی نتیجہ یہ ہوگا کہ ممکنہ اسپیکر حکیم جیفریز کو قانون سازی کے لیے کسی ایک دھڑے کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا،ڈیموکریٹس کو ایوان میں کم از کم 30 ووٹوں کی اضافی گنجائش حاصل ہونے کا امکان ہے، جس سے مختلف گروپوں کے لیے اپنی حمایت روک کر پارٹی قیادت کو دباؤ میں لانا مشکل ہوجائے گا،اس طرح ڈیموکریٹک قیادت کے سامنے پہلی مرتبہ ایک ایسا موقع پیدا ہوا ہے جس میں ترقی پسند، اعتدال پسند اور سینٹرسٹ ارکان داخلی اختلافات کے باوجود مشترکہ قانون سازی کا ایجنڈا آگے بڑھا سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید