Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

ایران کے سپریم لیڈر کا امریکا کو دوٹوک پیغام، ڈیموکریٹس کی کامیابی سے واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسی نہیں بدلے گی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ جو لوگ یہ توقع کر رہے ہیں کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کی شکست کے بعد واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسی تبدیل ہو جائے گی، وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ امریکی سیاسی جماعتوں کی تبدیلی یا واشنگٹن کو رعایتیں دینے سے ایران کے خلاف امریکی دشمنی ختم نہیں ہوگی
مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری تحریری بیان میں کہا کہ جو لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ امریکی سیاسی نظام میں جماعتی تبدیلی سے اس کی بالادستی کی پالیسی بدل جائے گی یا امریکا کو رعایتیں دینے سے ایرانی قوم کے خلاف اس کا رویہ تبدیل ہو سکتا ہے، وہ غلطی پر ہیں ان کے مطابق امریکا کی ایران کے خلاف پالیسی کسی ایک صدر یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مستقل ریاستی حکمت عملی موجود ہے
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا ہے ان انتخابات میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، تجارتی محصولات اور ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی ووٹروں کی ناراضی کی اہم وجوہات بنے
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی اس جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ عالمی توانائی کی منڈی بھی متاثر ہوئی اور تیل و ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں، جبکہ سفارتی کوششیں جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے جاری ہیں
مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ ایران پر حملے کیے تو جنگ کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو جائے گا انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دیں، تاہم ان کا بیان واضح کرتا ہے کہ تہران کسی نئے فوجی حملے کو محدود کارروائی نہیں سمجھے گا
مجتبیٰ خامنہ ای مارچ 2026 میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر بنے تھے ان کے والد 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے نئے سپریم لیڈر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر کوئی خطاب نہیں کیا اور اپنے پیغامات تحریری بیانات کے ذریعے جاری کرتے رہے ہیں
دوسری جانب ایران کے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے مرکزی نمائندے اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی انتخابات کے نتائج کو جنگ کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا ہے انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکی عوام نے ضمیر اور مہنگائی کے دباؤ کے تحت جنگ کو مسترد کیا ہے اور ایران اس پیغام کی حمایت کرتا ہے
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت اپنے عوام کی خواہشات کے خلاف جا کر بیرونی طاقتوں کے مفادات اور دباؤ کے تحت فیصلے کرے گی تو اسے ایران کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا
ایران کے عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو فوجی اور سیاسی دونوں محاذوں پر شکست ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ ایران مستقبل میں بھی امریکی صدر کو مزید شکستوں سے دوچار کرے گا
امریکی انتخابات کے نتائج نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے داخلی سیاسی مشکلات ضرور بڑھا دی ہیں، کیونکہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول حکومتی قانون سازی اور بجٹ کے معاملات میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے تاہم کانگریس میں اکثریت کی تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ صدر کے پاس فوجی کارروائی کا اختیار ختم ہو گیا ہے ٹرمپ اب بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں
اس صورتحال میں ایران کے سامنے دو اہم چیلنج ہیں ایک طرف اسے جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا ہیں، دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کو یہ پیغام دینا ہے کہ کسی نئے حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل زیادہ سخت ہوگا
مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں سمجھتا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا اپنی پابندیوں، فوجی دباؤ اور علاقائی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لاتا، دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن کا امکان محدود رہے گا

قومی خبریں سے مزید