Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

سعودی عرب نے پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے قرض کی مدت بڑھا دی، امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت ملنے کے امکانات کم

پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے قرض میں توسیع مل گئی ہے، تاہم امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مجوزہ مالی معاونت حاصل ہونے کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اس صورتحال میں حکومت نے بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی مالیاتی منڈیوں سے مزید قرض حاصل کرنے اور متبادل ذرائع اختیار کرنے کی تیاری شروع کردی ہے
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو فراہم کیے گئے 3 ارب ڈالر کی مدت بڑھا دی ہے یہ رقم رواں سال اپریل میں فراہم کی گئی تھی تاکہ متحدہ عرب امارات کو واپس کیے جانے والے 3.5 ارب ڈالر کے قرض سے پیدا ہونے والی مالی ضرورت پوری کی جاسکے
یہ قرض 31 اکتوبر 2026 کو اپنی مقررہ مدت پوری کرچکا تھا وزیر خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے اسے مزید مناسب مدت کے لیے بڑھا دیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ اس معاملے پر زیادہ تشویش کی ضرورت نہیں
سعودی عرب اس سے پہلے پاکستان کے 5 ارب ڈالر کے مالیاتی ڈپازٹ کی مدت بھی 2028 تک بڑھا چکا ہے
پاکستان نے جولائی 2026 میں امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی (ESSF) کی درخواست کی تھی اس سہولت کا مقصد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے اضافی مالی تحفظ فراہم کرنا تھا
تاہم محمد اورنگزیب نے اب اس مالی سہولت کے حصول سے متعلق توقعات کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بنیادی طور پر امریکی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ مقصد بڑی حد تک پورا ہوچکا ہے
ان کے مطابق اگر امریکا سے 10 ارب ڈالر کی سہولت مل جاتی ہے تو یہ اضافی مدد ہوگی، لیکن اس کے بغیر بھی پاکستان کے پاس آگے بڑھنے کے منصوبے موجود ہیں
حکومت اب یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور پاکستانی روپے سے منسلک ایسے بانڈز جاری کرنے کی تیاری کررہی ہے جن کی ادائیگی ڈالر میں ہوگی
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگئے ہیں، جو ان کے بقول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے ان ذخائر سے 3 ماہ سے زیادہ کی درآمدات کی ادائیگی ممکن ہے جبکہ حکومت کا ہدف سال کے اختتام تک انہیں 4 ماہ کی درآمدات کے برابر کرنا ہے
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے حالیہ اجلاسوں کے دوران انہوں نے 70 سے 80 عالمی سرمایہ کاری اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں ان اداروں کی جانب سے پاکستان کے لیے 5 اور 10 سال کی مدت کے سرمایہ کاری بانڈز میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہوگا جس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری پر غور کیا جائے گا
حکومت نے رواں مالی سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 4 ارب ڈالر کی کمی کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اگلے مالی سال میں مزید 3.5 ارب ڈالر کی کمی لانے کا منصوبہ ہے
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت مہنگے اور کم مدت کے قرضوں کی جگہ نسبتاً سستے اور طویل مدت کے قرض حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ بار بار قرض کی واپسی اور دوبارہ مالی انتظام کرنے کا دباؤ کم کیا جاسکے
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بیرونی قرض 2014 سے 2015 کے دوران تقریباً 45 ارب ڈالر تھا جو بڑھ کر تقریباً 100 ارب ڈالر تک پہنچا، تاہم گزشتہ 2 برس میں اس میں سالانہ اضافے کی رفتار کم ہوکر تقریباً 1 ارب ڈالر رہ گئی ہے
وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق جون 2026 کے اختتام پر پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض جی ڈی پی کے 68.6 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2022 سے 2023 میں 75.1 فیصد تھا اگست 2026 کے اختتام پر ملکی قرض 58.8 کھرب روپے جبکہ بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا
ابھی 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں باقی ہیں
حکام کے مطابق موجودہ مالی سال میں قرضوں کی واپسی اور دوبارہ مالی انتظام کے بعد بھی پاکستان کی خالص بیرونی مالی ضروریات تقریباً 11 ارب ڈالر ہیں اس میں سے 5 ارب ڈالر پہلے 4 ماہ میں ادا کیے جاچکے ہیں جبکہ باقی 6 ارب ڈالر آئندہ 7 ماہ میں ادا کرنا ہوں گے
اس صورتحال میں سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی توسیع پاکستان کے لیے اہم سہارا ہے، لیکن امریکا کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سہولت میں غیر یقینی صورتحال حکومت کے لیے متبادل مالی ذرائع کی اہمیت بڑھا رہی ہے
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ایک طرف اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے اور قرضوں کی واپسی کا دباؤ کم کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے بیرونی مالی معاونت پر انحصار کم کرکے عالمی سرمایہ کاری منڈیوں میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے

قومی خبریں سے مزید