امریکا اور کینیڈا کی سرحد کے قریب رہنے والے امریکی ووٹرز نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ، کینیڈا پر محصولات اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو اہم انتخابی موضوع بنایا سرحدی ریاستوں میں ووٹرز کی رائے سے ظاہر ہوا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات امریکی عوام کے لیے بھی معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکے ہیں
ریاست مین میں امریکی ووٹرز نے کینیڈا کے خلاف محصولات پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا۔ بنگور میں ووٹ ڈالنے کے بعد سڈنی اولسن نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ امریکا کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ کیوں کررہا ہے ان کے مطابق امریکی عوام کی بڑی تعداد کینیڈینز کو دشمن بنانے یا ان کے ساتھ تجارتی جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹ امیدوار کی حمایت کی
مین کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر مائیکل فرو نے کہا کہ وہ ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ریاست کے اہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی مدد حاصل کرسکتی ہیں تاہم انہوں نے بھی امریکا اور کینیڈا کے درمیان آزادانہ تجارت کی ضرورت پر زور دیا ان کے مطابق دونوں ممالک بہترین ہمسائے ہیں اور مل کر بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں
مین کے ووٹر ڈین او کونل نے کہا کہ کینیڈا امریکا کا دوست اور ہمسایہ ہے، اس لیے اس کے ساتھ موجودہ طرز کا سلوک نہیں ہونا چاہیے انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں سوزن کولنز کو ووٹ دیتے رہے، لیکن اس مرتبہ ڈیموکریٹ امیدوار کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ کے محصولات کو محدود کرسکے
تاہم تمام ووٹرز محصولات کے مخالف نہیں تھے ری پبلکن ووٹر مارک میکفرسن نے کہا کہ وہ کینیڈا پر محصولات مکمل طور پر ختم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، البتہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں برابری ضروری ہے ان کے مطابق عالمی تجارت میں امریکا کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ٹرمپ کا مؤقف درست ہے
مین میں کینیڈا کے خلاف محصولات کا مسئلہ خاص طور پر اہم تھا، کیونکہ ریاست کی معیشت کینیڈا کے ساتھ تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مین ہر سال کینیڈا سے تقریباً 4.1 ارب امریکی ڈالر کی مصنوعات درآمد کرتا ہے ان میں 2 ارب ڈالر مالیت کا ہیٹنگ آئل، جنگلاتی مصنوعات اور نیو برنسوک سے بجلی شامل ہے
ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے نتیجے میں مین کی جنگلاتی مصنوعات کی کینیڈا کو برآمدات میں 20 فیصد کمی ہوئی، جس سے مقامی صنعت اور ملازمتیں متاثر ہوئیں کینیڈین سیاحوں کی مین آمد میں کمی نے بھی ریاست کے کاروباروں کو نقصان پہنچایا
مین کے انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی جیکسن اور کولنز دونوں اس بات سے اتفاق کرتے تھے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ نے ریاست کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم جیکسن نے کولنز پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کے محصولات روکنے کے لیے کافی مؤثر اقدامات نہیں کرسکیں
کولنز نے انتخاب سے قبل وائٹ ہاؤس سے مذاکرات کرکے بعض کینیڈین جنگلاتی اور زرعی مصنوعات پر محصولات ختم کرانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس اقدام کے باوجود وہ اپنی نشست برقرار نہ رکھ سکیں
سیاسی ماہرین کے مطابق امریکی انتخابات میں کینیڈا کا معاملہ کئی سرحدی ریاستوں میں اہم انتخابی مسئلہ بن گیا، لیکن ڈیموکریٹس کی کامیابی کو کینیڈا کے لیے فوری تجارتی فتح قرار نہیں دیا جاسکتا صدر ٹرمپ اب بھی اپنے انتظامی اختیارات کے ذریعے محصولات عائد کرسکتے ہیں، جبکہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت بھی صدر کے تمام تجارتی فیصلوں کو خودبخود ختم نہیں کرسکتی
کینیڈا کے لیے اس انتخابی نتیجے کا اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت، بہتر تعلقات اور اقتصادی تعاون کی حمایت کرتی ہے تاہم تجارتی جنگ کے خاتمے اور مستقل معاہدے کے لیے کینیڈا کو امریکی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے






