Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی ٹیرف جنگ نے امریکی انتخابات میں ری پبلکنز کو ڈبو دیا، مہنگائی اور تجارتی پالیسی ڈیموکریٹس کی کامیابی کا بڑا سبب بن گئیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات عائد کرنے کی پالیسی اور مہنگائی میں اضافے نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی شکست میں اہم کردار ادا کیا ہے معاشی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے امریکی صارفین، کاروباری اداروں، کسانوں اور صنعتی شعبوں کے اخراجات بڑھائے، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر حکومت کے خلاف ناراضی میں اضافہ ہوا اور ڈیموکریٹس کو تاریخی کامیابی حاصل کرنے کا موقع ملا
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر کنٹرول حاصل کرلیا، جبکہ کئی ایسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جہاں روایتی طور پر ری پبلکن پارٹی مضبوط رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف سیاسی مخالفت کا اظہار نہیں بلکہ ٹرمپ حکومت کی معاشی اور تجارتی پالیسیوں پر عوامی ردعمل بھی ہیں
ٹرمپ نے گزشتہ سال سے مختلف ممالک کی مصنوعات پر محصولات عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس میں کینیڈا بھی شامل تھا۔ ان محصولات کا مقصد امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور غیر ملکی تجارت کے ذریعے امریکا کے لیے بہتر شرائط حاصل کرنا تھا، تاہم اس کے نتیجے میں متعدد درآمدی مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئیں
نیویارک کے وفاقی ریزرو بینک کی گزشتہ ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 تک محصولات نے امریکی اشیائے تجارت کی قیمتوں میں مہنگائی کے 2.9 فیصد اضافے میں کردار ادا کیا معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ محصولات کے نتیجے میں صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑیں اور ٹرمپ کے انتخابی وعدے، جن میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنا شامل تھا، پورے نہ ہوسکے
مین سینٹر فار اکنامک پالیسی کے سربراہ گیریٹ مارٹن نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی عالمی تجارت اور عوامی اخراجات کم کرنے کی حکمت عملی مسلسل مشکلات کا شکار رہی ان کے مطابق حکومت ایک مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی تو دوسرے شعبے میں نئی مشکلات پیدا ہوجاتیں، جس سے عوام کے لیے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھتا گیا
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ریاست مین میں محصولات کے باعث جنگلاتی مصنوعات کی برآمدات میں 18 فیصد کمی ہوئی، جس سے مقامی صنعت اور روزگار متاثر ہوئے
کینیڈا کے خلاف ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے امریکی سرحدی ریاستوں اور ان صنعتوں کو بھی متاثر کیا جو کینیڈا کے ساتھ کاروبار پر انحصار کرتی ہیں مشی گن میں امریکی محصولات کے اثرات خاص طور پر نمایاں رہے، کیونکہ اس ریاست کی آٹوموبائل صنعت کینیڈا کے ساتھ گہرے تجارتی روابط رکھتی ہے
امریکی نیشنل ٹیکس پیئرز یونین فاؤنڈیشن کے مطابق ٹرمپ کے محصولات نے جنوری 2025 سے مشی گن میں تقریباً 27 ارب امریکی ڈالر کے اخراجات پیدا کیے، جو فی گھرانہ تقریباً 6,516 امریکی ڈالر بنتے ہیں
مشی گن میں ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز نے انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ کینیڈا کے خلاف تجارتی جنگ ختم کریں، حالانکہ وہ اس سے قبل محصولات کے حامی رہے تھے تاہم انتخابی نتائج سے ظاہر ہوا کہ محصولات کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کے باوجود ری پبلکن امیدوار عوامی ناراضی کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے
ڈیموکریٹ امیدوار عبدالالسید نے مشی گن میں 52.5 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ مائیک راجرز 45.5 فیصد ووٹ لے سکے انتخابی نتائج کے وقت تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی
ریاست مین میں ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا انتخابات سے چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ان کی درخواست پر بعض کینیڈین زرعی اور جنگلاتی مصنوعات پر 50 فیصد محصولات ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جن سے ریاست کی صنعتیں متاثر ہورہی تھیں
تاہم یہ اقدام انتخابی نقصان کو روکنے کے لیے کافی ثابت نہ ہوا اور کولنز 7 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئیں
ٹورنٹو یونیورسٹی کے منک اسکول آف گلوبل افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے پروفیسر ڈریو فگن نے کہا کہ ری پبلکن امیدواروں کی جانب سے محصولات کی مخالفت کے باوجود ان کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ عوام ان پالیسیوں کے اثرات سے مطمئن نہیں تھے
ان کے مطابق محصولات اور مہنگائی کے درمیان تعلق نے عوام کو شدید مالی دباؤ میں رکھا، جبکہ کانگریس میں ری پبلکن ارکان نے ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے دوران ان پالیسیوں کی حمایت کی اور انہیں روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے
کینیڈا کے ساتھ کشیدگی امریکی عوام کے لیے بھی معاشی مسئلہ بن گئی
امریکا اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی صرف تجارتی اعدادوشمار تک محدود نہیں رہی بلکہ عوامی زندگی اور مقامی معیشتوں پر بھی اثر انداز ہوئی
کینیڈا اور امریکا کے درمیان سیاحت میں کمی، سرحدی خریداری میں کمی اور امریکی علاقوں میں کینیڈین سیاحوں کی آمد میں کمی نے متعدد کاروبار متاثر کیے۔ امریکی کینیڈین بزنس کونسل کی سابق سربراہ میری اسکاٹ گرین ووڈ کے مطابق کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ اور امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا کی خودمختاری سے متعلق دھمکیوں نے امریکی سیاحت کو بھی نقصان پہنچایا
انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے کاروبار، سیاحتی مقامات اور وہ امریکی شہر جہاں کینیڈین خریداروں اور سیاحوں کی آمد اہم معاشی کردار ادا کرتی تھی، اس صورتحال سے متاثر ہوئے
گرین ووڈ کے مطابق محصولات کا معاملہ امریکی عوام کے لیے روزمرہ زندگی اور معیشت سے جڑا مسئلہ بن گیا تھا، جس نے انتخابی نتائج پر بھی اثر ڈالا
ایران جنگ اور قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ کے خلاف ناراضی بڑھائی
انتخابی نتائج کے بعد سامنے آنے والے تجزیوں میں ایران جنگ، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی مہنگائی کو بھی ری پبلکن پارٹی کی شکست کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے
امریکی ووٹرز کے ایک سروے کے مطابق عوام نے محصولات، ایران جنگ اور قیمتیں کم کرنے کے وعدے پورے نہ ہونے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد کی
معاشی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا کہ انہوں نے انتخابی مہم میں مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کی تجارتی جنگ اور خارجہ پالیسیوں نے متعدد شعبوں میں قیمتوں کو بڑھا دیا
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کینیڈا کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے، کیونکہ متعدد ڈیموکریٹ امیدواروں نے محصولات کی مخالفت کی اور امریکا کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر زور دیا
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے تجارتی فیصلوں کا انحصار صرف کانگریس پر نہیں بلکہ صدر کے اختیارات اور انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھی ہے
ڈریو فگن کے مطابق ٹرمپ کی تجارتی حکمت عملی بنیادی طور پر اس تصور پر قائم رہی ہے کہ امریکا کو فائدہ حاصل کرنے کے لیے دوسرے ممالک کو نقصان اٹھانا ہوگا اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا صدر شکست کے بعد اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہیں یا کینیڈا کے ساتھ مذاکرات میں دوبارہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں
کینیڈا کے لیے امریکی انتخابات ایک اہم موقع ضرور ہیں، لیکن محصولات کے مکمل خاتمے اور مستقل تجارتی معاہدے کے حصول کے لیے ابھی مزید مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی

قومی خبریں سے مزید