امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد کینیڈا کے سیاسی رہنماؤں نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانے، محصولات ختم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت بحال کرنے پر زور دیا ہے کینیڈین رہنماؤں نے انتخابی نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیا، تاہم وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ امریکی سیاست میں تبدیلی کے باوجود کینیڈا کی اقتصادی حکمت عملی تبدیل نہیں ہوگی
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج سے قطع نظر کینیڈا کی توجہ اپنے ملک میں مہنگائی اور رہائشی اخراجات کم کرنے، بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے، معیشت مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو دوسرے ممالک تک وسعت دینے پر مرکوز رہے گی ان کے مطابق حکومت کا یہی ایجنڈا آج بھی ہے اور آئندہ وفاقی بجٹ میں بھی اسی کو ترجیح دی جائے گی
کینیڈا کے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کے وزیر ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ امریکی انتخابات نے اس حقیقت کو دوبارہ واضح کردیا ہے کہ کینیڈا کو امریکی عوام کی حمایت اور خیرسگالی کی صورت میں بڑی طاقت حاصل ہے ان کے مطابق امریکا میں جہاں بھی وہ گئے، ٹیکساس، ڈیٹرائٹ یا نیویارک، ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز، مزدوروں اور کاروباری حلقوں سمیت مختلف طبقات نے محصولات کی مخالفت کی
لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا کو امریکی عوام کی اس حمایت کو استعمال کرتے ہوئے محصولات سے پاک تجارت کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام ان محصولات سے خوش نہیں اور کینیڈا کو اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہیے
کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیور نے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ امریکی عوام محصولات کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے مطابق کینیڈا پر محصولات دراصل امریکی صارفین پر اضافی ٹیکس ہیں
پوئیلیور نے وزیراعظم کارنی پر زور دیا کہ وہ امریکی عوام کی خیرسگالی اور انتخابی نتائج سے پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ محصولات سے پاک تجارت کا معاہدہ حاصل کریں
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی حکمت عملی میں تجارتی شراکت داروں کو متنوع بنانا اور امریکا کے ساتھ موجود مشکلات کا حل تلاش کرنا شامل رہنا چاہیے پوئیلیور نے امریکی انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مبارکباد بھی دی
اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے ڈیموکریٹس کی کامیابی پر غیر معمولی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی نتائج دیکھ کر خوشی سے اچھل رہے تھے
فورڈ نے کہا کہ امریکی عوام نے مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں، ایران جنگ اور بالخصوص محصولات کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی
ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس اب بھی محصولات عائد کرنے کے اختیارات موجود ہیں اور جنوری میں کینیڈا کے خلاف مزید محصولات کا خطرہ برقرار ہے فورڈ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے وزرا کو امریکا بھیجیں گے تاکہ نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز، کانگریس ارکان اور گورنرز کے ساتھ تعلقات قائم کیے جاسکیں
شان فریزر اور مارک ملر کا مؤقف
کینیڈا کے وزیر انصاف شان فریزر نے کہا کہ کینیڈا ہمیشہ امریکی حکومت کے مختلف سطحوں پر رابطے اور سفارت کاری کو اہمیت دیتا رہا ہے ان کے مطابق امریکی عوام نے اپنا فیصلہ کیا ہے اور کینیڈا کو اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے بہترین معاہدے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے
کینیڈا کے وزیر ثقافتی ورثہ مارک ملر نے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج پر محصولات کی نقصان دہ پالیسیوں کا بھی اثر پڑا ہے ان کے مطابق اب دونوں ممالک کے تعلقات کو ازسرنو بہتر بنانے اور آزادانہ و منصفانہ تجارت بحال کرنے کا موقع موجود ہے
ساسکیچیوان کے پریمیئر اسکاٹ مو نے کہا کہ امریکی عوام نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ 2 سال کے اقدامات کو مسترد کردیا ہے ان کے مطابق کینیڈا دونوں ممالک کے تعلقات دوبارہ مضبوط بنانے اور معیشتوں کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے
مینی ٹوبا کے پریمیئر واب کینیو نے بھی امریکی انتخابات کے نتائج کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف واضح ردعمل قرار دیا انہوں نے امریکا سے کینیڈا پر محصولات ختم کرنے اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا
کینیو نے امریکی انتخابات میں کامیاب ہونے والی بعض نمایاں شخصیات کو مبارکباد بھی دی، جن میں مینی سوٹا سے پیگی فلاناگن، نیو میکسیکو کی گورنر منتخب ہونے والی ڈیب ہالینڈ اور مشی گن سے عبدالالسید شامل ہیں
کینیڈا کے رہنماؤں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتخابات نے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں نئی امید پیدا کی ہے، تاہم کینیڈا کی حکومت سمجھتی ہے کہ محصولات کے خاتمے اور مستقل تجارتی معاہدے کے لیے ابھی مزید مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی






