Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی سیاست میں تاریخی تبدیلی، پہلا مسلمان سینیٹر، پہلی سیاہ فام خاتون اور پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر منتخب، ڈیموکریٹس نے کانگریس اور گورنروں کی اکثریت بھی حاصل کر لی

امریکی سیاست میں تاریخی تبدیلی، پہلا مسلمان سینیٹر، پہلی سیاہ فام خاتون اور پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر منتخب، ڈیموکریٹس نے کانگریس اور گورنروں کی اکثریت بھی حاصل کر لی

امریکہ کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات نے ملک کی سیاسی تاریخ میں کئی نئے باب رقم کر دیے ہیں،پہلی بار ایک مسلمان امریکی سینیٹ کا رکن منتخب ہوا، پہلی سیاہ فام خاتون اور پہلی مقامی امریکی خاتون ریاستی گورنر بنیں، جبکہ مقامی امریکی خاتون پہلی مرتبہ سینیٹ میں بھی پہنچ گئی ہیں،ان تاریخی کامیابیوں کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی نے وفاقی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے اور 16 سال بعد ملک کی گورنریوں میں بھی ریپبلکن پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے
مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدل السید نے ریپبلکن مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی،وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر ہوں گے،صحت عامہ کے ماہر اور سابق ریاستی صحت کے عہدیدار عبدل السید کی کامیابی کو انتخابی مہم کی اہم ترین پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے،ان کے خلاف انتخابی مہم کے دوران مذہب اور امریکی وفاداری کے حوالے سے بھی الزامات اور تنقید سامنے آئی، تاہم انہوں نے انتخاب جیت کر تاریخ رقم کر دی
مینیسوٹا کی لیفٹیننٹ گورنر پیگی فلاناگن نے بھی سینیٹ کا انتخاب جیت کر پہلی مقامی امریکی خاتون سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا،نیو ہیمپشائر سے ڈیموکریٹ کرس پاپاس نے ریپبلکن جان سنونو کو شکست دی،وہ امریکی تاریخ کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست مرد سینیٹر ہوں گے،اس کے علاوہ الینوائے سے جولیانا اسٹریٹن نے ریپبلکن ڈان ٹریسی کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیتی،ان کی کامیابی کے بعد امریکی سینیٹ میں سیاہ فام خواتین کی تعداد 3 ہو جائے گی، جبکہ الینوائے کی نمائندگی پہلی مرتبہ دو ایسی خواتین کریں گی جن کا تعلق نسلی اقلیتوں سے ہے
گورنروں کے انتخابات میں جارجیا سے ڈیموکریٹ کیشا لانس باٹمز نے کامیابی حاصل کر کے امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا،وہ اٹلانٹا کی سابق میئر ہیں اور ان کی کامیابی کے بعد جارجیا میں 2002 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹ گورنر منتخب ہوا ہے،نیو میکسیکو سے ڈیموکریٹ ڈیبرا ہالینڈ امریکہ کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر منتخب ہوئیں،وہ لگونا پیوبلو قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں اور اس سے پہلے صدر جو بائیڈن کی کابینہ میں وزیر داخلہ رہ چکی ہیں
ریاستی گورنرز میں دیگر تاریخی کامیابیاں بھی سامنے آئیں، ٹیکساس سے ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر منتخب ہوئیں،کیلیفورنیا سے سابق اٹارنی جنرل زیویئر بیسیرا کی کامیابی کے بعد وہ 1875 کے بعد ریاست کے پہلے لاطینی گورنر ہوں گے،وسکونسن سے ڈیوڈ کراؤلی ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر منتخب ہوئے، جبکہ فلوریڈا سے ریپبلکن بائرن ڈونلڈز ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بنیں گے،ٹینیسی میں ریپبلکن مَرشا بلیک برن نے بھی کامیابی حاصل کی اور ریاست کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئیں،میری لینڈ کے سیاہ فام گورنر ویس مور نے بھی دوبارہ انتخاب جیت لیا
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے 218 نشستوں کی مطلوبہ اکثریت عبور کرتے ہوئے تازہ انتخابی گنتی میں ابھی 236 نشستیں حاصل کر لی ہیں, کئی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے، تاہم پارٹی ایوان کا کنٹرول حاصل کر چکی ہے,سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کی تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار تھیں,اس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی وفاقی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو بیٹھی ہے
گورنروں کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے چار اہم ریاستوں آئیووا، اوہائیو، جارجیا اور ٹیکساس میں ریپبلکن گورنروں کی نشستیں چھین لیں,انتخابات سے پہلے ملک کی 50 گورنرز میں ریپبلکن پارٹی کے پاس 26 اور ڈیموکریٹس کے پاس 24 تھیں،ان پانچ نشستوں کی تبدیلی کے بعد ڈیموکریٹس کی تعداد 29 ہو گئی ہے یوں ڈیموکریٹس نے 16 سال بعد پہلی مرتبہ ملک بھر میں گورنرز کی اکثریت حاصل کر لی ہے,اس سال 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخابات ہوئے
یہ نتائج امریکی سیاست میں نمائندگی کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں،مسلمان، مقامی امریکی، سیاہ فام اور لاطینی پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی کامیابیوں کے ساتھ خواتین اور ایل جی بی ٹی کیو برادری سے تعلق رکھنے والے امیدوار بھی اعلیٰ ترین منتخب عہدوں تک پہنچے ہیں،انتخابی نتائج نے نہ صرف ریاستی قیادت کا نقشہ تبدیل کیا ہے بلکہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے لیے قانون سازی، بجٹ اور انتظامیہ کی نگرانی کے حوالے سے ایک نئی سیاسی صورت حال بھی پیدا کر دی ہے

قومی خبریں سے مزید