Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی امیگریشن، مہنگائی اور صحت پالیسیوں کا انتخابی ردعمل، ریپبلکنز کی 7 سینیٹ نشستیں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں چھن گئیں

ٹرمپ کی امیگریشن، مہنگائی اور صحت پالیسیوں کا انتخابی ردعمل، ریپبلکنز کی 7 سینیٹ نشستیں ڈیموکریٹس کے ہاتھوں چھن گئیں

امریکہ کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا پیدا کیا ہے،ڈیموکریٹس نے مَین، نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ کیرولائنا، اوہائیو، ٹیکساس، کنساس اور آئیووا میں ریپبلکنز کی 7 سینیٹ نشستیں حاصل کرکے ایوان بالا کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا،انتخابی نتائج کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی، مہنگائی، صحت کی سہولتوں کے اخراجات، میڈیکیڈ اور میڈی کیئر میں کٹوتیوں اور ایران جنگ کے معاشی اثرات نے انتخابی ماحول پر گہرا اثر ڈالا،اس کے ساتھ سیاہ فام اور لاطینی ووٹروں میں ریپبلکن حمایت کی کمی بھی ڈیموکریٹس کے لیے اہم ثابت ہوئی
ان سات ریاستوں کی آبادیاتی ساخت انتخابی نتائج کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ نارتھ کیرولائنا میں سیاہ فام آبادی تقریباً 21.3 فیصد اور لاطینی آبادی 12.6 فیصد ہے، جبکہ ساؤتھ کیرولائنا میں سیاہ فام آبادی 24.4 فیصد اور لاطینی آبادی 8.5 فیصد ہے،اوہائیو میں سیاہ فام آبادی 13.4 فیصد اور لاطینی آبادی 5.5 فیصد ہے،ٹیکساس میں لاطینی آبادی تقریباً 40.9 فیصد اور سیاہ فام آبادی 13 فیصد ہے،کنساس میں لاطینی آبادی 14.6 فیصد اور سیاہ فام آبادی 6.2 فیصد، جبکہ آئیووا میں لاطینی آبادی 8.1 فیصد اور سیاہ فام آبادی 4.5 فیصد ہے،مَین میں یہ تناسب نسبتاً کم ہے، جہاں سیاہ فام آبادی 2.9 فیصد اور لاطینی آبادی 2.8 فیصد ہے، تاہم مین بائیس فیصد سے زائد بوڑھی آبادی صحت کے شعبے میں بڑی کٹوتیوں کے ساتھ ایک بڑی آبادی کینڈا سے امریکہ کے کاروباری تعلقات میں کشیدگی کے باعث ریپبلکن سے ناراض بتائ جاتی ہے ، اسی طرح جارجیا میں مجموعی آبادی میں سیاہ فام افراد کا تناسب 32.4 فیصد جبکہ لاطینی یا ہسپانوی آبادی کا تناسب 12.1 فیصد ہے، تاہم ووٹرز کی آبادی اور اصل ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب الگ ہوتا ہےاکتوبر 2026 کے انتخابی رجسٹریشن ریکارڈ کے مطابق جارجیا کے رجسٹرڈ ووٹر لسٹ میں سیاہ فام ووٹرز اکتیس فیصد جبکہ لاطینی ساڑھے پانچ فیصد تک ظاہر کیے گئے ہیں
پیو ریسرچ سینٹر کے انتخاب سے پہلے کیے گئے سروے میں 70 فیصد سیاہ فام رجسٹرڈ ووٹروں نے ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کا اظہار کیا، جبکہ صرف 7 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کی،لاطینی ووٹروں میں 51 فیصد ڈیموکریٹ اور 24 فیصد ریپبلکن امیدواروں کے حق میں تھے،اسی سروے میں 64 فیصد لاطینی ووٹروں نے امیگریشن کو اپنے انتخابی فیصلے کے لیے اہم مسئلہ قرار دیا، جبکہ 80 فیصد نے صحت کی سہولتوں کو بہت اہم قرار دیا،74 فیصد لاطینی ووٹروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں نے ملک کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کیا ہے
انتخابی نتائج کے ابتدائی ایگزٹ پولز میں بھی ریپبلکنز کی حمایت میں نسلی گروہوں کے درمیان نمایاں کمی سامنے آئی،سیاہ فام مردوں میں ریپبلکن حمایت 2024 کے تقریباً 21 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد رہ گئی، جبکہ لاطینی ووٹروں میں ریپبلکن حمایت تقریباً نصف سے کم ہوکر ایک تہائی کے قریب پہنچ گئی،یہ تبدیلی خاص طور پر ٹیکساس اور نارتھ کیرولائنا جیسی ریاستوں میں اہم تھی، جہاں لاطینی اور سیاہ فام آبادی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے،تاہم قومی ایگزٹ پولز کو ہر ریاست کے ووٹروں کا الگ الگ نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے
لاطینی کمیونٹی میں امیگریشن کے سخت اقدامات، ملک بدری کی کارروائیوں اور خاندانوں میں علیحدگی کے خدشات نے ناراضگی پیدا کی،ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں نے ایسے خاندانوں کو بھی متاثر کیا جن کے افراد یا رشتہ دار ان کارروائیوں کے خوف میں زندگی گزار رہے تھے،دوسری جانب مہنگائی، خوراک، رہائش، پٹرول اور بجلی کے اخراجات نے کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں پر دباؤ بڑھایا،رائٹرز کے انتخاب سے پہلے کیے گئے سروے میں 48 فیصد رجسٹرڈ ووٹروں نے اخراجات زندگی کو اپنے ووٹ کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا تھا، جبکہ ایگزٹ پولز میں تقریباً 90 فیصد ووٹروں نے مہنگائی اور اخراجات زندگی کو اپنے فیصلے کے لیے اہم بتایا
صحت کا مسئلہ بھی انتخابی مہم میں نمایاں رہا،ٹرمپ انتظامیہ کے 2025 کے بجٹ اور ٹیکس قانون کے تحت میڈیکیڈ کے اخراجات میں بڑی کمی نے کم آمدنی والے خاندانوں، معذور افراد اور سرکاری صحت کی سہولتوں پر انحصار کرنے والے شہریوں میں تشویش پیدا کی،سیاہ فام اور لاطینی آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے صحت کی انشورنس اور علاج کے اخراجات پہلے ہی اہم مسئلہ تھے،پیو کے سروے میں 80 فیصد لاطینی ووٹروں نے صحت کی سہولتوں کو انتخابی فیصلے کے لیے بہت اہم قرار دیا،اس طرح مہنگائی اور صحت کی بڑھتی قیمتوں نے ان ووٹروں کی ترجیحات میں اہم جگہ حاصل کی،بزرگ شہریوں میں میڈیکیئر اور علاج کے اخراجات سے متعلق خدشات بھی انتخابی بحث کا حصہ رہے
مَین میں سوزن کولنز کی شکست کی وجوہات کا پس منظر باقی ریاستوں سے کچھ مختلف تھا،امریکی مردم شماری کے مطابق مَین کی تقریباً 24.6 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے،اس بڑی عمر کی آبادی کے لیے صحت کی انشورنس، میڈیکیئر، ادویات اور علاج کے اخراجات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں،اس کے علاوہ ایران جنگ کے بعد پٹرول اور گھروں کو گرم رکھنے والے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مَین کے شہریوں کو خاص طور پر متاثر کیا، کیونکہ سرد موسم میں ہیٹنگ آئل گھریلو اخراجات کا بڑا حصہ ہے،ٹرمپ انتظامیہ کی کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی نے بھی ریاست کی معیشت پر دباؤ ڈالا،کینیڈا مَین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور لکڑی، لابسٹر، سیاحت، توانائی اور دیگر شعبوں میں دونوں جانب کاروبار کا گہرا تعلق ہے،ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے خلاف ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے اپنی مہم میں صحت کی سہولتوں اور عام محنت کش طبقے کے معاشی مسائل کو نمایاں کیا
مجموعی طور پر انتخابی نتائج میں ایک طرف مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور صحت کے اخراجات نے ووٹروں کی ناراضگی کو بڑھایا، دوسری طرف امیگریشن کے سخت اقدامات نے لاطینی کمیونٹی میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بے چینی پیدا کی،سیاہ فام ووٹروں میں ریپبلکن حمایت کی کمی اور لاطینی ووٹروں کے بدلتے رجحان نے بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی میں کردار ادا کیا،تاہم ساتوں ریاستوں کے نتائج کو کسی ایک نسلی گروہ یا ایک پالیسی کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے اسے معاشی دباؤ، صحت، امیگریشن اور ٹرمپ انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی کے خلاف مختلف طبقات کے ردعمل کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہوگا

قومی خبریں سے مزید