Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کا لہجہ بدل گیا، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر حکومت چلانے اور سمجھوتے پر آمادگی، ’’مسٹر ویٹو‘‘ کا نعرہ پس منظر میں چلا گیا

انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کا لہجہ بدل گیا، ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر حکومت چلانے اور سمجھوتے پر آمادگی، ’’مسٹر ویٹو‘‘ کا نعرہ پس منظر میں چلا گیا

امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی غیر معمولی شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی لہجے میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے انتخابی نتائج قبول کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے،انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ڈیموکریٹس کو خبردار کرنے والے ٹرمپ نے، جو یہ کہہ رہے تھے کہ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس پر کنٹرول حاصل کیا تو دنیا انہیں ’’مسٹر ویٹو‘‘ کے نام سے یاد کرے گی، انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد مفاہمت اور تعاون کی بات شروع کر دی ہے
انتخابی نتائج کو محض کانگریس کی نشستوں کی تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا بلکہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کا اظہار بھی ہے،ایران کے ساتھ جنگ، اس کے نتیجے میں تیل اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات، سخت امیگریشن پالیسی اور درآمدی اشیا پر عائد ٹیرف نے امریکی ووٹروں میں بے چینی پیدا کی،رائٹرز اور دیگر امریکی میڈیا اداروں کے لیے کیے گئے ایگزٹ پولز کے مطابق تقریباً 90 فیصد ووٹروں نے مہنگائی اور اخراجات زندگی کو اپنے ووٹ کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ 55 فیصد نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط فیصلہ سمجھا۔ رائٹرز/اِپسوس کے انتخاب سے پہلے کیے گئے سروے میں 48 فیصد ووٹروں نے مہنگائی اور اخراجات زندگی کو اپنا سب سے اہم انتخابی مسئلہ قرار دیا، جبکہ 55 فیصد نے ایران کے ساتھ جنگ کو اس کی قیمت کے مقابلے میں غیر ضروری سمجھا،تقریباً 48 فیصد ووٹروں نے اپنے ووٹ کو ٹرمپ کے خلاف فیصلہ قرار دیا، جبکہ صرف 25 فیصد نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی حمایت میں ووٹ دے رہے ہیں،ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی مہم میں ٹرمپ کی شخصیت اور ان کی پالیسیوں کا اثر ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک بڑا انتخابی چیلنج بن گیا تھا
نیویارک ٹائمز کو انتخابی رات وائٹ ہاؤس سے ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں،ان کے الفاظ تھے، ’’میں ان نتائج کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہوں؟ہم ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کریں گے، ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور ممکن ہے کہ ہم کوئی سمجھوتہ طے کر لیں” ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکے تھے
ٹرمپ کے اس بیان کو ان کے انتخاب سے پہلے کے جارحانہ مؤقف کے مقابلے میں ایک اہم سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،انہوں نے چند روز پہلے واضح کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کیا تو وہ اپنے صدارتی ویٹو اختیارات کا بھرپور استعمال کریں گے اور بالآخر ڈیموکریٹس کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا،تاہم اب انہوں نے خود ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون اور سمجھوتے کی بات کی ہے،کانگریس میں حکومت کے اخراجات، وفاقی بجٹ اور آئندہ مالیاتی پیکیج کی منظوری اس تعاون کا پہلا بڑا امتحان بن سکتے ہیں، کیونکہ ان معاملات میں دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بغیر حکومتی امور متاثر ہو سکتے ہیں
اس کے باوجود ٹرمپ کے مؤقف میں مکمل تبدیلی کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا،نیویارک ٹائمز کو انٹرویو کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی روایتی سرخ MAGA ٹوپی کی تصویر کے ساتھ صرف لفظ ’’ویٹو‘‘ بھی پوسٹ کیا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تعاون کی بات کرنے کے ساتھ اپنے آئینی اختیارات کے استعمال کا امکان بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں،انہوں نے اپنی جماعت کی شکست کا ذمہ دار خود کو قرار دینے کے بجائے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر وہ خود انتخابی بیلٹ پر ہوتے تو ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے
ادھر ایوان نمائندگان کے موجودہ اسپیکر مائیک جانسن نے بھی انتخابی نتائج پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے،لوزیانا کے شہر شریوپورٹ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آج رات کے نتائج سے مایوس ہونے والے ہر امریکی سے کہنا چاہتا ہوں کہ میں بھی مایوس ہوں، لیکن ہم کبھی حوصلہ نہیں ہارتے” انہوں نے کہا کہ ایک رات کے انتخابی نتائج سے ریپبلکنز کا سیاسی مقصد تبدیل نہیں ہوتا اور پارٹی امریکی عوام کے لیے بہتر زندگی کے اپنے ایجنڈے پر کام جاری رکھے گی،جانسن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تاریخ اور مڈٹرم انتخابات کا روایتی رجحان ریپبلکنز کے خلاف تھا اور اس مرتبہ بھی وہ اس رجحان کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے
سینیٹ میں ڈیموکریٹک قیادت نے اس کے برعکس انتخابی نتائج کو اپنی جماعت کی تاریخی واپسی قرار دیا ہے،سینیٹ کے موجودہ اقلیتی رہنما اور آئندہ اکثریتی رہنما بننے کی پوزیشن میں موجود چک شومر نے کہا کہ ڈیموکریٹس نے تمام مشکلات کے باوجود سینیٹ میں کامیابی حاصل کی ہے،انہوں نے امریکی عوام سے خطاب میں کہا، ’’ہمارے پاس امریکی عوام کے لیے پانچ الفاظ ہیں: ریلیف آنے والا ہے” شومر کے مطابق امریکی ووٹروں نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور اب ڈیموکریٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعتماد کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں،انہوں نے اس انتخابی کامیابی کو امریکی سینیٹ کے سیاسی نقشے میں ایک نسل پر محیط تبدیلی قرار دیا
انتخابی نتائج کا ایک اہم پہلو ایوان نمائندگان میں ریپبلکن امیدواروں کی شکست بھی ہے،ڈیموکریٹس نے متعدد ایسے انتخابی اضلاع میں کامیابی حاصل کی جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح برتری حاصل کی تھی،سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے آئیووا، کنساس، ٹیکساس، اوہائیو، نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ کیرولائنا اور دیگر اہم ریاستوں میں ریپبلکنز سے نشستیں چھین کر اپنی اکثریت قائم کی،اس طرح یہ نتیجہ محض ایوان نمائندگان میں چند نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی کے لیے وفاقی سطح پر اقتدار کے دونوں بڑے ایوان کھونے کا باعث بنا ہے
انتخابی نتائج کے ابتدائی تجزیوں میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات، ایران کی جنگ اور حکومتی بدعنوانی کے الزامات کو ووٹروں کی ناراضگی کے اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کے انتخابی سروے میں تقریباً تین چوتھائی ووٹروں نے ملک کی موجودہ سمت پر ناراضگی یا عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ تقریباً 80 فیصد نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی،یہ اعدادوشمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انتخابی مہم میں خارجہ پالیسی اور سیاسی نعروں کے باوجود عام امریکی ووٹر کے لیے معاشی مسائل فیصلہ کن اہمیت رکھتے تھے
کچھ سیاسی مبصرین اس نتیجے کو ریپبلکن پارٹی کے لیے اس سے بھی بڑے ممکنہ نقصان کا اشارہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر سینیٹ کی تمام نشستیں ایک ہی وقت میں انتخاب کے لیے پیش ہوتیں تو پارٹی کو کہیں زیادہ مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا،تاہم اس قسم کا تقابل ایک مفروضہ ہے، کیونکہ امریکی سینیٹ کی تمام 100 نشستوں پر بیک وقت انتخابات نہیں ہوتے،موجودہ انتخاب میں 35 نشستیں زیر انتخاب تھیں اور ان میں سے 22 ریپبلکنز کے پاس تھیں
ٹرمپ کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ عملی تعاون کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا کانگریس کے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھتے ہیں،ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اکثریت کی واپسی اور سینیٹ میں ان کے کنٹرول کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو بجٹ، حکومتی اخراجات، قانون سازی، انتظامی تقرریوں اور نگرانی سے متعلق معاملات میں ایک مضبوط سیاسی مخالف کا سامنا ہوگا،اسپیکر مائیک جانسن کی مایوسی، چک شومر کا فاتحانہ اعتماد اور ٹرمپ کی اچانک مفاہمتی زبان اس نئی سیاسی صورت حال کے تین مختلف رخ ہیں،امریکہ کی سیاست میں اب اصل امتحان انتخابی مہم کے نعروں کا نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹک قیادت کے درمیان عملی تعاون یا نئی کشمکش کا ہوگا

قومی خبریں سے مزید