مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مریم نواز کی دھمکی، فوجی اداروں پر کرپشن کے الزامات اور سیاسی قیادت کی جوابی صف بندی، کے پی سے بلوچستان پنجاب اور سندھ تک اختیارات کی جنگ نے نئے تصادم کا راستہ کھول دیا
رپورٹ آفاق فاروقی
نیویارک : پاکستان کی سیاست میں ایک نئی اور غیر معمولی کشمکش جنم لیتی دکھائی دے رہی ہے,پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے درمیان کرپشن کے الزامات پر کھلی محاذ آرائی، سے پہلے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی جانب سے فوج کے تعمیراتی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی کارکردگی اور ٹھیکوں پر اعتراضات، اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام حکومت کو ناکام قرار دینے والے بیانات کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے،مختلف سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا سول سیاسی قیادت اب ان اداروں اور طاقت کے مراکز کے خلاف بھی کھل کر بولنے کا راستہ اختیار کر رہی ہے جن کے بارے میں ماضی میں محتاط رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے؟
اس تازہ کشیدگی کا فوری سبب چوہدری سالک حسین کا ایک ٹی وی انٹرویو بنا، جس میں انہوں نے پنجاب حکومت کے ترقیاتی بجٹ کی تقسیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی وسائل کا بڑا حصہ لاہور پر خرچ کیا جا رہا ہے اور انہیں پنجاب میں کرپشن کی مسلسل شکایات مل رہی ہیں،ان کا تعلق مسلم لیگ ق سے ہے اور وہ چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے ہیں اور یہ خاندان پنجاب میں ایک طویل سے مسلم لیگ ن کی سیاست کے خلاف ایک الگ قوت اور فوج کا ہمنوا تصور کیا جاتا ہے
مریم نواز نے اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بیان پر سخت ردعمل دیا، انہوں نے کہا کہ اگر چوہدری سالک کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، ورنہ وہ ان کے خلاف ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیجیں گی اور عدالت لے جائیں گی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو چوہدری سالک اسی حکومت کے نظام کا حصہ بن کر وفاقی وزیر کیوں بیٹھے ہیں؟ مریم نواز نے اس تنازع کو گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی سے بھی جوڑا اور کہا کہ چوہدری سالک اپنی پسند کا افسر تعینات کرانا چاہتے تھے، جس کی اجازت نہیں دی گئی،چوہدری سالک نے اپنے الزامات واپس لینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں
لیکن سیاسی حلقوں میں اس تصادم کو محض ایک ٹی وی انٹرویو یا ایک افسر کے تبادلے کا معاملہ نہیں سمجھا جا رہا،اس کے پیچھے گجرات میں چوہدری خاندان کی سیاسی پوزیشن، پنجاب کابینہ میں وزارتوں کی تقسیم اور سرکاری محکموں کے انتظامی و مالی اختیارات کی کشمکش بھی زیر بحث ہے
چوہدری سالک کے بھائی چوہدری شافع حسین پہلے پنجاب کابینہ میں صنعت و تجارت کے وزیر رہ چکے ہیں، لیکن بعد میں ان کے قلم دان میں تبدیلی کی گئی اور انہیں محکمہ اوقاف و مذہبی امور دے دیا گیا،پنجاب حکومت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق چوہدری شافع حسین اس وقت صوبائی وزیر اوقاف ہیں،اس محکمے کے تحت داتا دربار سمیت صوبے کے سینکڑوں مزارات، وقف املاک، مذہبی اداروں اور ان سے وابستہ انتظامی و مالی معاملات آتے ہیں
داتا دربار کے معاملے نے اس سیاسی کشمکش کو ایک اور حساس رخ دے دیا ہے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی مصطفیٰ ڈار، جو وزیراعلیٰ مریم نواز کے بہنوئی بھی ہیں، پنجاب حکومت میں مشیر برائے مصنوعی ذہانت اور خصوصی اقدامات مقرر ہیں،جبکہ اسحاق ڈار خود داتا دربار ٹرسٹ کے چئیر مین ہیں ، اور اب انکے صاحبزادے علی ڈار کو داتا دربار کی مذہبی امور کمیٹی کا چیئرمین بھی بنایا گیا ہے،سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ اس کمیٹی کے اجلاسوں کی صدارت کرتے اور مزار کے ترقیاتی و انتظامی معاملات کا جائزہ لیتے رہے ہیں،اس طرح محکمہ اوقاف کے صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین کے ساتھ ایک اہم مذہبی و انتظامی ادارے میں اسحاق ڈار کے صاحبزادے کا بھی نمایاں کردار سامنے آتا ہے
سیاسی ذرائع کے مطابق چوہدری خاندان کے حلقوں میں اس صورت حال کو اختیارات کی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے،ان کا کہنا ہے کہ چوہدری شافع حسین کو اوقاف کا قلم دان ملنے کے باوجود داتا دربار کے معاملات میں اسحاق ڈار کے صاحبزادے کی موجودگی نے اختیارات اور اثرورسوخ کی نئی کشمکش پیدا کر دی ہے،داتا دربار کے نذرانوں، عطیات، لنگر اور دیگر مالی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نذرانوں سے حاصل ہونے والی رقوم کی تقسیم میں مخصوص افراد کو 15 ہزار اور بعض کو 50 ہزار روپے تک دینے کے فیصلے کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ بعض دوسرے افراد کو نظرانداز کیا جاتا ہے،ان حلقوں کے مطابق اصل تنازعہ صرف مذہبی انتظامات کا نہیں بلکہ ان اداروں سے وابستہ مالی اور انتظامی اختیارات کا بھی ہے
پنجاب اوقاف کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں اس محکمے کے انتظامی کنٹرول میں 548 مزارات اور 437 مساجد ہیں،داتا دربار ان میں سب سے اہم اور نمایاں مرکز ہے،اس کے علاوہ ہزاروں ایکڑ وقف اراضی، تجارتی جائیدادوں، دکانوں، ٹھیکوں اور عطیات کا انتظام بھی اسی محکمے سے وابستہ ہے،یہی وجہ ہے کہ اوقاف کی وزارت کو محض مذہبی عہدہ نہیں بلکہ ایک بڑے انتظامی اور مالیاتی شعبے کی نگرانی سمجھا جاتا ہے،
داتا دربار کی تعمیر نو اور توسیع کا معاملہ بھی اسی سیاسی پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے،جب محسن نقوی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ تھے تو 2023 میں اسحاق ڈار کے ساتھ مل کر داتا دربار کے توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا،اس منصوبے میں عبادت گاہ، راہداریوں اور زائرین کی سہولتوں میں اضافے کے اقدامات شامل تھے،بعد میں اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی مصطفیٰ ڈار کو داتا دربار کی مذہبی امور کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا،سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو پنجاب کے مذہبی اداروں میں اثرورسوخ کی نئی تقسیم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے
اس تمام معاملے کا ایک دوسرا پہلو پنجاب کی وزارتوں اور ماڈل بازاروں سے متعلق اختیارات کی تقسیم ہے،چوہدری شافع حسین کے صنعتی و تجارتی امور سے وابستہ قلم دان اور پنجاب کے دیگر انتظامی محکموں کی تقسیم کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کون سا سیاسی خاندان کس محکمے اور اس کے مالی وسائل پر اثرانداز ہو سکتا ہے،مسلم لیگ ق کے حلقوں میں اسے گجرات کی مقامی سیاست اور چوہدری خاندان کے سیاسی اثرورسوخ کے خلاف ایک وسیع تر کشمکش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،پنجاب کی وزیر سلمیٰ بٹ کو اکتوبر میں فوڈ سیفٹی اور کنزیومر پروٹیکشن کا قلم دان دیا گیا تھا، جبکہ ماڈل بازاروں کا انتظام قیمتوں کے کنٹرول اور اشیائے ضروریہ کے محکمے سے منسلک ہے، اور یہ دونوں محکمے پہلے وزارت صنعت و تجارت کے ماتحت تھے جو چوہدری شافع کے پاس تھی جو ان سے لیکر سلمیٰ بٹ اور وزیر آباد کی ایک ایم پی اے چھٹہ میں تقسیم کردی گئی
اس کشمکش کا دائرہ اب پنجاب تک محدود نہیں رہا،بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حال ہی میں صوبائی اسمبلی میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی کارکردگی پر سخت اعتراضات کیے ہیں،سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی قومی شاہراہوں کے منصوبوں میں تاخیر، ٹھیکوں کی تقسیم اور کام کی بندش پر سوالات اٹھائے تھے،سرفراز بگٹی نے تسلیم کیا کہ ایف ڈبلیو او کو منصوبے دینے کے باوجود بعض سڑکوں کی حالت خراب ہو گئی ہے اور ادارہ بڑے ٹھیکے لینے کے بعد کام چھوٹے ذیلی ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتا ہے، جس سے تعمیراتی معیار متاثر ہوتا ہے،انہوں نے اپنے علاقے کی سڑکوں کی خراب حالت کا بھی حوالہ دیا،یہ اعتراضات اس لیے اہم ہیں کہ ایف ڈبلیو او فوج سے وابستہ تعمیراتی ادارہ ہے اور بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ کی جانب سے اس کی کارکردگی پر اس سطح کی تنقید غیر معمولی سیاسی اہمیت رکھتی ہے، گو کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پر بدعنوانی کے از خود درجنوں الزامات ہیں اور موصوف کو فوج کا فرنٹ مین ہی قرار دیا جاتا ہے
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس سے پہلے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سخت تنقید کر چکے ہیں،30 جولائی کو پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ملک کا موجودہ نظام حکمرانی ناکام ہو چکا ہے اور سات دہائیوں سے اسی نظام کو چلایا جا رہا ہے، جس سے بنیادی مسائل حل نہیں ہو رہے،انہوں نے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل سمیت بنیادی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا،ان کا یہ بیان بھی سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا تھا کیونکہ وہ موجودہ حکومتی بندوبست کے اندر رہتے ہوئے پورے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہے تھے
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر سخت مخالفت کی ہے،ان کا الزام ہے کہ دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال کو جواز بنا کر صوبے کے معدنی وسائل پر قبضے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے،21 اکتوبر کو انہوں نے کہا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے پیچھے معدنی وسائل حاصل کرنے کا مقصد کارفرما ہے،28 اکتوبر کو قومی اسمبلی میں بھی انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا میں حالات خراب ہونے کی بنیاد پر گورنر راج لگانے کی بات کی جا رہی ہے تو بلوچستان کی صورت حال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہونے کے باوجود وہاں ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کے یہ بیانات بھی معدنی وسائل، صوبائی خودمختاری اور وفاقی اختیارات کی کشمکش کو نمایاں کرتے ہیں
سیاسی مبصرین کے نزدیک ان واقعات کو الگ الگ تنازعات کے بجائے پاکستان میں سول سیاسی قیادت اور طاقتور اداروں کے درمیان اختیارات کی نئی کشمکش کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے،ایک طرف بلوچستان میں ایف ڈبلیو او کے ٹھیکوں اور کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، دوسری طرف خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل اور گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمن کھل کر مخالفت کر رہے ہیں، پنجاب میں مریم نواز اور چوہدری سالک حسین کے درمیان کرپشن کے الزامات پر محاذ آرائی سامنے آ گئی ہےجبکہ سندھ میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف نیب کو متحرک کرنے کی اطلاعات بھی اسی نئی لڑائ کا حصہ بتای جاتی ہیں اور کہا جارہا ہے اس تمام تنازعے کے پسمنظر میں نئے صوبے نئے انتظامی یونٹ کا دباؤ کارفرما ہے
اس صورت حال میں ایک اہم سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ ماضی میں مختلف حکومتوں اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے الزامات اور احتساب کی کارروائیوں کو سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں،اب بعض سیاسی حلقوں میں یہ سوچ بھی زیر بحث ہے کہ اگر سیاسی قیادت کے خلاف مالیاتی اور انتظامی معاملات کو بنیاد بنا کر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے تو سیاسی رہنما بھی طاقتور اداروں کے منصوبوں، ٹھیکوں اور مالیاتی معاملات پر سوال اٹھا سکتے ہیں،یہ تاثر اگر سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہوا تو اس کے اثرات صرف پنجاب یا بلوچستان سندھ تک محدود نہیں رہیں گے،اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، مولانا فضل الرحمن کھل کر معدنی وسائل اور صوبائی خودمختاری کا سوال اٹھا رہے ہیں اور اب مریم نواز بھی کرپشن کے الزامات پر سیاسی مخالفین کو عدالت لے جانے کی دھمکی دے رہی ہیں، جو ملک میں فوج کا سیاسی اثاثہ سمجھے جاتے ہیں ، نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد مسلم لیگ ن کی اندرونی سیاست میں بھی مختلف سوالات زیر بحث ہیں،آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ تمام معاملات انفرادی سیاسی جھگڑوں تک محدود رہتے ہیں یا سول سیاسی قیادت اور عسکری اداروں کے درمیان اختیارات کی ایک بڑی کشمکش کی شکل اختیار کرتے ہیں، ملک کے سیاسی حلقوں
یں عام تاثر ہے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے تصادم کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں جس کے دوران پہلی بار سیاست دانوں کے ساتھ فوجی مقتدرہ کی لوٹ مار بدعنوانی اور طاقت کے ذریعے سیاست دانوں کو بلیک میل کرنے کے ٹھوس شواہد سامنے لائے جائیں گے






