Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیتن یاہو کی انتخابی دھاندلی کی مہم کو دھچکا، عدالت نے گرفتار کارکنوں کو ریلیف دے دیا، عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد روکنے کی کوشش ناکام ہوتی دکھائی دینے لگی

اسرائیل میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے حالیہ انتخابات کے نتائج مشکوک قرار دینے کی کوششوں کو اتوار کے روز بڑا دھچکا لگا، جب ملک کے اعلیٰ انتخابی، قانونی اور انٹیلی جنس حکام نے واضح کر دیا کہ انتخابی نتائج تبدیل یا منسوخ نہیں کیے جائیں گے، دوسری جانب عدالت نے مبینہ انتخابی رشوت کے مقدمے میں گرفتار تین افراد کے خلاف پولیس کی مزید پابندیاں لگانے کی درخواستوں پر بھی سخت سوالات اٹھائے
27 اکتوبر کو انتخابات سے چند گھنٹے قبل جنوبی اسرائیل میں عرب بدو آبادی سے تعلق رکھنے والے تین کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا،پولیس کا الزام تھا کہ وہ عرب جماعت رعام کے حق میں ووٹ خریدنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے گھروں کی تلاشی کے دوران دسیوں ہزار اسرائیلی شیکل نقد رقم، رقم سے بھرے لفافے اور انتخابی پرچیاں برآمد ہوئی تھیں،تاہم گرفتار کارکنوں کا مؤقف تھا کہ یہ رقم خیراتی مقاصد کے لیے تھی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق عدالت نے اتوار کو پولیس کی جانب سے تینوں ملزمان کی حراست اور ان پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی درخواستوں پر تحفظات ظاہر کیے،پولیس نے بعد میں بتایا کہ ایک ملزم کو بعض نامعلوم شرائط کے ساتھ رہا کر دیا گیا، دوسرے کو 8 روز کے لیے گھر میں نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا، جبکہ تیسرے ملزم کی حراست میں مزید 2 روز کی توسیع کی گئی
اس معاملے میں ایک اور اہم پیش رفت یہ تھی کہ انتخابات کے دو روز بعد پولیس نے مزید 4 افراد کو گرفتار کیا تھا،پولیس نے ان گرفتاریوں کو بھی رعام جماعت سے منسلک قرار دیا، تاہم جماعت نے کسی بھی قسم کی انتخابی دھاندلی یا ووٹ خریدنے میں ملوث ہونے کی تردید کی
رعام کے سربراہ منصور عباس نے گرفتاریوں کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے،ان کے مطابق عرب ووٹروں اور جماعت کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے ان واقعات کو بنیاد بنا کر دعویٰ کیا تھا کہ عرب جماعتوں نے انتخابات چوری کیے ہیں،لیکن انتخابی حکام نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کو مسترد کر دیا،اسرائیل کے داخلی خفیہ ادارے شین بیت نے بھی واضح کیا کہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات محدود نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد پورے عرب ووٹر طبقے کو مشکوک قرار دینا نہیں ہے
اسرائیل کی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج نوم سولبرگ نے اٹارنی جنرل اور شین بیت کے سربراہ کی موجودگی میں واضح کیا کہ اگر غیر ملکی مداخلت کے شکوک درست بھی ثابت ہو جائیں تو اس سے مجموعی انتخابی عمل یا انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہوگی
انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں صرف 53 نشستیں ملیں، جبکہ ان کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کیں،عرب قیادت والی جماعتوں نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں،ان میں منصور عباس کی رعام جماعت کی 8 نشستیں بھی شامل ہیں
اس طرح نیتن یاہو مخالف اپوزیشن اور عرب جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 67 نشستیں موجود ہیں، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے زیادہ ہیں،تاہم دونوں سیاسی دھڑوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے اتفاق رائے ابھی یقینی نہیں ہے
نیتن یاہو نے اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کی صورت میں غداری کے مترادف قرار دیا ہے،دوسری جانب آئزن کوٹ نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم انتخابی نتائج کو غیر معتبر ثابت کرنے کے لیے منظم مہم چلا رہے ہیں،انہوں نے قطر پر اپوزیشن کی حمایت کے الزامات کو بھی انتخابی نتائج کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔ قطر نے انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی قسم کی مالی معاونت کے الزام کی تردید کی ہے
عرب جماعتوں کے رہنماؤں نے نیتن یاہو پر نسل پرستانہ اشتعال انگیزی اور عرب شہریوں کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے،عرب شہری اسرائیل کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں،جوائنٹ لسٹ کے رہنما یوسف جبارین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو اور ان کی جماعت کی نصف سے زیادہ انتخابی دن کی تشہیری سرگرمیوں کا رخ عرب ووٹروں کے خلاف تھا
اس دوران اسرائیل میں یہودی اور عرب جماعتوں پر مشتمل مشترکہ حکومت کے حق میں بھی مظاہرے ہوئے، جبکہ نیتن یاہو کے حامیوں نے اس امکان کے خلاف احتجاج کیا،صدر اسحاق ہرزوگ رواں ہفتے منتخب جماعتوں سے مشاورت شروع کریں گے اور اس کے بعد حکومت بنانے کے لیے اس امیدوار کو نامزد کریں گے جس کے پاس پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کا بہتر امکان ہوگا،اگر حکومت سازی کی کوششیں ناکام رہیں تو اسرائیل کو اگلے سال دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے کہا جارہا نتن یاہو عرب پارٹیوں پر ووٹ چوری کا الزام لگا کر اپنے مخالف سیاسی دھڑے کو عرب پارٹیوں سے ملکر حکومت بنانے سے روکنا چاہتے ہیں

قومی خبریں سے مزید