Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بروکلین میں پولیس افسر کے گھر کے باہر ’’یہاں ایک قاتل پولیس اہلکار رہتا ہے‘‘ کے پوسٹر لگانے پر دو مظاہرین گرفتار، آزادیٔ اظہار کی حدود پر نئی بحث

بروکلین میں پولیس افسر کے گھر کے باہر ’’یہاں ایک قاتل پولیس اہلکار رہتا ہے‘‘ کے پوسٹر لگانے پر دو مظاہرین گرفتار، آزادیٔ اظہار کی حدود پر نئی بحث

نیویارک کے علاقے بروکلین میں دو مظاہرین کی گرفتاری نے امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ اظہار کے حق اور پولیس اہلکاروں کو ہراساںں کرنے کے الزامات کے درمیان قانونی حدود پر بحث چھیڑ دی ہے
بروکلین کے پراسیکیوٹرز کے مطابق جیمی کووالسکی اور ڈینیئل کوہ نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کے ایک اہلکار کی رہائش گاہ کے باہر، اس کی گلی اور قریبی سب وے اسٹیشن پر ایسے پوسٹر لگائے جن پر لکھا تھا: ’’یہاں ایک قاتل پولیس اہلکار رہتا ہے”
ان پوسٹروں میں مذکورہ اہلکار کو 2021 میں کراؤن ہائٹس کے علاقے میں ایوڈس پیئر کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا،سرکاری تحقیقات کے مطابق پولیس کے دو اہلکاروں نے پیئر کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا تھا جب وہ چاقو لے کر ان میں سے ایک پر حملہ آور ہوا،نیویارک کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے تحقیقات کے بعد قرار دیا تھا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہیے،پولیس نگرانی کے ادارے نے بھی اہلکاروں کے اقدام کو پولیس محکمے کے ضابطوں کے مطابق قرار دیا تھا
دونوں مظاہرین کا مؤقف تھا کہ پوسٹر لگانا ان کا آئینی حق اور آزادیٔ اظہار کا حصہ ہے،تاہم ان کے مطابق 20 اکتوبر کی صبح پولیس کے وارنٹ کے ساتھ افسران ان کے گھروں پر پہنچے اور انہیں تعاقب اور ہراساں کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا
گرفتار مظاہرین نے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ آزادیٔ اظہار کے حق کو محدود کرنے کی کوشش ہے،اس واقعے نے یہ اہم قانونی سوال اٹھا دیا ہے کہ کسی پولیس اہلکار کے خلاف عوامی سطح پر سخت احتجاج اور تنقید کب آئینی آزادی کے دائرے میں رہتی ہے اور کس مرحلے پر اسے ہراسانی یا تعاقب کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید