سینیٹ میں غربت اور مہنگائی پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا، پی ٹی آئی خواتین کی گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل پر بھی ہنگامہ
پاکستان کی سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی، پی ٹی آئی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، زیر حراست خواتین کی صحت اور مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اجلاس کے دوران متعدد مواقع پر احتجاج، نعرے بازی اور شور شرابا بھی دیکھنے میں آیا
پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں عالمی بینک کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والے افراد غربت کی لکیر سے نیچے شمار ہوتے ہیں
علی ظفر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں اضافے نے غریب عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں ملک کے کئی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت موجود نہیں جبکہ متعدد مقامات پر ثانوی تعلیم کے لیے اسکول بھی دستیاب نہیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کے ان بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، لیکن اس کے بجائے سیاسی معاملات اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے
اجلاس میں پی ٹی آئی کی بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی گرفتاری اور صحت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے ان کی حالت اور حراست کے دوران مبینہ بدسلوکی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی تقریباً 70 سال کی بیمار خاتون ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات کے ساتھ اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اور ان کی صحت کے معاملے کو اتنی اہمیت کیوں نہیں دی جا رہی؟
اس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ نورین نیازی کی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی خواہش پر نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے مشورے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور علاج کے بارے میں فیصلہ بھی ڈاکٹر ہی کریں گے
طلال چوہدری نے کہا کہ چونکہ معاملہ ایک خاتون کی صحت سے متعلق ہے اس لیے حکومت اس حوالے سے زیادہ حساس ہے اور ان کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے
پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی نے بتایا کہ انہوں نے نورین نیازی کے شوہر سے بات کی ہے جنہوں نے انہیں آگاہ کیا کہ ان کا علاج تسلی بخش انداز میں جاری ہے اعظم سواتی نے حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا کہ نورین نیازی کو ان کی بڑی بیٹی سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا
تاہم طلال چوہدری کے اس بیان پر کہ علاج کا فیصلہ مریض کی خواہش کے بجائے ڈاکٹروں کے مشورے سے ہوگا، پی ٹی آئی کے ارکان نے احتجاج اور نعرے بازی شروع کر دی اجلاس کی صدارت کرنے والے پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے ارکان کو خاموش رہنے اور کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے نورین نیازی کو بیٹی سے ملاقات کی اجازت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے پی ٹی آئی کی دیگر خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا
انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمران خان کی بہنوں کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بزرگ خواتین کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او کے تحت جیلوں میں کیوں رکھا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ خواتین کا احترام کیا جانا چاہیے اور اگر کسی خاتون کو حراست میں رکھنا ضروری سمجھا جائے تو اسے جیل بھیجنے کے بجائے گھر میں نظر بند کرنے کا متبادل بھی موجود ہے
راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا کہ خواتین کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے انہوں نے تمام زیر حراست خواتین کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو فوری طور پر جیلوں سے رہا کیا جائے
انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت صوبے پر اپنا کنٹرول قائم کرکے سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہے ان کے مطابق ملک کی معاشی ترقی کے لیے قانون کی حکمرانی ضروری ہے اور حکومت کو سیاسی مخالفین اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاریوں کے بجائے بھوک، غربت اور عوامی فلاح پر توجہ دینی چاہیے
اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ملک میں مبینہ ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ صورتحال اسلام آباد تک پہنچ چکی ہے
کامران مرتضیٰ نے خبردار کیا کہ ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ملک میں لاقانونیت کی مثال قائم کی جا رہی ہے اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو ایک دن سیاسی کارکن بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں
سینیٹ کی کارروائی میں سامنے آنے والے یہ معاملات پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں ایک طرف بڑھتی ہوئی غربت، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، دوسری طرف سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں، خواتین کی حراست، انسانی حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابدہی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں
اس اجلاس میں حکومت کی جانب سے نورین نیازی کے علاج اور اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے پر یقین دہانی کرائی گئی، جبکہ حزب اختلاف نے دیگر زیر حراست خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم غربت، سیاسی کشیدگی اور ماورائے عدالت قتل جیسے اہم مسائل پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اختلافات برقرار رہے





