Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دہشت گردی کے قوانین کا غیر ضروری استعمال، ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا پر عدالتی نظام پر سوالات

دہشت گردی کے قوانین کا غیر ضروری استعمال، ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا پر عدالتی نظام پر سوالات

پاکستان میں انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری حاضری اور ان کے شوہر اور وکیل ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائے جانے پر قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے دونوں وکلا کو ایک سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے اور پولیس کے ساتھ جھڑپ کے دوران عوامی بے چینی پھیلانے کے الزامات کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزا سنائی ہے
اس معاملے پر سامنے آنے والے اداریے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا مبینہ طور پر سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے کا عمل دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے کافی تھا؟ اور کیا اس نوعیت کے واقعے پر 10 سال قید کی سزا متناسب قانونی کارروائی قرار دی جا سکتی ہے؟
واقعے کے مطابق دونوں وکلا نے مبینہ طور پر ایک ایسی سکیورٹی رکاوٹ ہٹائی تھی جو پاکستان کے دورے پر آنے والی کرکٹ ٹیم کی حفاظت کے لیے لگائی گئی تھی۔ اس دوران پولیس کے ساتھ ان کا آمنا سامنا بھی ہوا عدالت نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان نے سکیورٹی حکام پر دباؤ ڈال کر بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے حفاظتی انتظامات متاثر کرنے کی کوشش کی
عدالت نے اپنے فیصلے میں 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے عمل سے غیر ملکی ٹیم کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی تھی
تاہم اس مقدمے پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملہ بھاری ہتھیاروں سے لیس ایک درجن سے زائد دہشت گردوں نے کیا تھا، جبکہ موجودہ مقدمے میں ایک سکیورٹی رکاوٹ ہٹانے کے واقعے کو اسی نوعیت کے سکیورٹی خطرے سے جوڑنے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں
مقدمے کی سماعت جیل کے اندر ہوئی تھی اور اس کے دوران قانونی طریقہ کار اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں پر بھی مسلسل اعتراضات سامنے آتے رہے ناقدین کے مطابق کسی بھی شہری کو دہشت گردی کے قانون کے تحت سزا دینے کے لیے الزامات، شواہد اور مبینہ جرم کے درمیان واضح قانونی تعلق ثابت کرنا ضروری ہے
یہ پہلو بھی اہم ہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک دوسرے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کے فیصلے تک انہیں رہا رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم رہائی کے فوراً بعد انہیں موجودہ سکیورٹی مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور اب اس مقدمے میں بھی طویل قید کی سزا سنا دی گئی ہے
ایمان مزاری انسانی حقوق کے شعبے میں ایک نمایاں وکیل کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے سے شہری آزادیوں، بنیادی انسانی حقوق اور کمزور طبقات کے قانونی تحفظ کے لیے کام کیا ہے وہ متعدد ایسے مقدمات میں بھی بلا معاوضہ قانونی معاونت فراہم کرتی رہی ہیں جن میں متاثرہ افراد کے پاس اپنے دفاع کے لیے مالی وسائل موجود نہیں تھے
وہ حکومت اور ریاستی اداروں کی بعض پالیسیوں اور اقدامات پر کھل کر تنقید بھی کرتی رہی ہیں ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ بھی وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور دونوں ایک ساتھ قانونی معاملات میں سرگرم رہے ہیں
اس مقدمے میں 10 سال قید کی سزا کا ایک اہم اثر یہ بھی ہے کہ دونوں وکلا اپیل کے دوران جیل میں رہیں گے اس صورتحال نے ان کے قانونی دفاع اور اپیل کے عمل کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے
قانونی حلقوں کے لیے یہ معاملہ اس وسیع تر سوال سے بھی جڑا ہوا ہے کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کا دائرہ کہاں تک ہونا چاہیے یہ قوانین بنیادی طور پر دہشت گردی، منظم تشدد اور شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرے میں ڈالنے والے جرائم سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ہیں اگر انہیں ایسے واقعات پر بھی استعمال کیا جائے جن میں دہشت گردی کے بنیادی عناصر واضح طور پر موجود نہ ہوں تو ان قوانین کے اصل مقصد اور قانونی اعتبار پر سوالات پیدا ہو سکتے ہیں
اس مقدمے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے، ریاستی اقدامات پر تنقید اور کسی واقعے پر احتجاج کو دہشت گردی کے الزامات میں تبدیل کرنے سے وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں خوف پیدا ہو سکتا ہے اس کے نتیجے میں کمزور اور محروم شہریوں کو قانونی مدد فراہم کرنے والے افراد بھی اپنے کام میں دباؤ محسوس کر سکتے ہیں
اب دونوں وکلا کے پاس اعلیٰ عدالتوں میں فیصلے کے خلاف اپیل کا راستہ موجود ہے اس معاملے میں اپیل کی فوری سماعت، شواہد کا غیر جانب دارانہ جائزہ اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی تکمیل اہم ہوگی
اس پورے معاملے کا بنیادی سوال یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قوانین کا استعمال حقیقی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہونا چاہیے یا انہیں ایسے واقعات تک بھی پھیلا دیا جائے جن کی نوعیت اور شدت مختلف ہو کسی بھی قانونی نظام میں جرم کی نوعیت، شواہد اور سزا کے درمیان تناسب برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ انصاف پر عوام کا اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب قانون کا اطلاق شفاف اور یکساں ہو

قومی خبریں سے مزید