Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پارلیمنٹ کی مفلوج صورتحال کا اعتراف، حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی محاذ آرائی جمہوریت کے لیے خطرہ بن گئی

پارلیمنٹ کی مفلوج صورتحال کا اعتراف، حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی محاذ آرائی جمہوریت کے لیے خطرہ بن گئی

پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل اور پارلیمنٹ کی کارکردگی پر جاری بحث کے دوران سیاسی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو پارلیمنٹ کی موجودہ غیر مؤثر صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہی ہیں، تاہم سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل محاذ آرائی کا فائدہ عوام کے بجائے بعض سیاسی مفادات کو پہنچ رہا ہے
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت پر آئین کے غلط استعمال اور غیر آئینی اقدامات کا الزام عائد کیا انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے تصادم اور تشدد کی پالیسی جاری رکھی تو ان کی جماعت اس کے خلاف مزاحمت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے
مولانا فضل الرحمٰن نے موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے ایک نئے میثاق جمہوریت کی تجویز بھی پیش کی ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات ختم کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حکومت کی جانب سے اپنا مؤقف تبدیل کرنے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے اقدامات نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا
ان کے مطابق سیاسی قیادت میں برداشت اور ایک دوسرے کا مؤقف سننے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث پارلیمنٹ اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کرنے سے قاصر ہے
مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیاسی جواب دینے کے بجائے ان پر ذاتی نوعیت کی تنقید کی اور اشارہ دیا کہ جے یو آئی کے سربراہ خیبر پختونخوا میں اقتدار میں حصہ نہ ملنے کی وجہ سے ناراض ہیں
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کو فعال بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آ کر اپنا آئینی اختیار استعمال کرے
بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس ایوان کو غیر فعال رکھنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ پاکستانی عوام پارلیمنٹ سے فائدہ اٹھائیں، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں انہوں نے اپوزیشن کو بھی اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس نے بھی ایسے عناصر کے مقاصد پورے کرنے میں کردار ادا کیا ہے
بلاول بھٹو کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم تھا کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ پارلیمنٹ کی غیر فعالیت سے عوام کے بجائے بعض دوسرے مفادات وابستہ ہیں تاہم ان کے بیان میں پیپلز پارٹی کے اپنے سیاسی کردار اور موجودہ صورتحال میں اس کی ذمہ داری کا ذکر نہیں کیا گیا
موجودہ سیاسی بحران میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سیاسی نقصان پہنچا ہے اور عوام میں ان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ مسلسل الزام تراشی، انتقامی سیاست اور مذاکرات سے گریز نے پارلیمانی نظام کو کمزور کیا ہے
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو بھی سیاسی مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے اس اقدام کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے
دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے مسلسل احتجاج اور تصادم کی حکمت عملی بھی اب تک کسی قابل ذکر سیاسی حل تک نہیں پہنچ سکی سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت مؤقف میں لچک پیدا کریں، ایک دوسرے کے تحفظات سنیں اور مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط عائد کرنے سے گریز کریں
پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل صرف پارلیمنٹ میں تقاریر اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اختلافات کے باوجود پارلیمانی کمیٹیوں میں مل بیٹھیں، قانون سازی کا عمل بحال کریں اور عوامی مسائل کو سیاسی مفادات پر ترجیح دیں
اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن دونوں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ان کی مسلسل محاذ آرائی نے ملک کو ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جس کا نقصان بالآخر پاکستانی عوام اور جمہوری نظام کو اٹھانا پڑ رہا ہے؟

قومی خبریں سے مزید