Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کا تیل اور گیس کمپنیوں کو بڑی رعایت دینے کا منصوبہ، میتھین کے اخراج پر پابندیاں نرم کرنے کی تیاری

ٹرمپ کا تیل اور گیس کمپنیوں کو بڑی رعایت دینے کا منصوبہ، میتھین کے اخراج پر پابندیاں نرم کرنے کی تیاری

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل اور گیس کی صنعت سے خارج ہونے والی میتھین گیس کو محدود کرنے والے ضابطوں میں بڑی نرمی کی تجویز پیش کی ہے امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے 27 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں نافذ کیے گئے ماحولیاتی ضابطوں پر نظرثانی کی جائے گی ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے تیل اور گیس کی پیداوار بڑھے گی، کمپنیوں کے اخراجات کم ہوں گے اور صارفین کو توانائی نسبتاً سستی فراہم کرنے میں مدد ملے گی
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں ایندھن کی قیمتیں سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق موجودہ ضابطے تیل اور گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالتے ہیں، خصوصاً ان چھوٹے کنوؤں کے مالکان پر جن سے پیداوار محدود مقدار میں حاصل ہوتی ہے امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے منتظم لی زیلڈن کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے صارفین اور کاروباری اداروں کو تقریباً 45 ارب ڈالر کے اخراجات سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے یہ رقم انتظامیہ کا تخمینہ ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ بچت نہیں
میتھین قدرتی گیس کا بنیادی جزو ہے اور عالمی حدت میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہے یہ گیس تیل اور گیس کے کنوؤں، پائپ لائنوں، گیس کی صفائی اور ترسیل کے دوران آلات سے رساؤ کے ذریعے فضا میں پہنچتی ہے بعض مقامات پر تیل نکالتے وقت ساتھ نکلنے والی گیس کو استعمال کرنے کے بجائے آگ لگا کر جلا دیا جاتا ہے، جسے فلیئرنگ کہا جاتا ہے اس عمل سے بھی گرین ہاؤس گیسیں اور دیگر آلودہ مادے فضا میں خارج ہوتے ہیں
میتھین فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں کم عرصہ رہتی ہے، لیکن 20 سال کے عرصے میں حرارت کو پھنسنے کی اس کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے تقریباً 80 گنا زیادہ ہے اسی وجہ سے سائنس دانوں کے نزدیک میتھین کے اخراج میں کمی نسبتاً مختصر مدت میں عالمی حدت کی رفتار کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے
ٹرمپ انتظامیہ کی مجوزہ تبدیلیوں میں ایک اہم اقدام سپر ایمیٹر پروگرام ختم کرنا ہے اس پروگرام کے تحت منظور شدہ آزاد نگرانی کرنے والے ادارے تیل اور گیس کی تنصیبات سے میتھین کے بڑے اخراج کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو اطلاع دے سکتے تھے، جس کے بعد کمپنیوں سے رساؤ کی تحقیقات اور مرمت کا تقاضا کیا جاتا تھا مجوزہ تبدیلی کے تحت اس نگرانی کے نظام کو ختم کرنے کی تجویز ہے
دوسری تبدیلی کم پیداوار والے تیل اور گیس کے کنوؤں کے لیے ضابطوں میں نرمی سے متعلق ہے ایسے کنوؤں کو چلانے والی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ سخت معائنے اور مرمت کے تقاضے ان کے لیے مالی طور پر مشکل ثابت ہو سکتے ہیں امریکی حکام کے مطابق ان تبدیلیوں سے چھوٹے کاروباروں اور ان خاندانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو ایسے کنوؤں کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں
تیسری اہم تبدیلی تیل نکالنے کے دوران ساتھ پیدا ہونے والی قدرتی گیس کو جلانے کے ضابطوں میں نرمی ہے موجودہ ضابطوں کا مقصد ایسی گیس کو ضائع ہونے سے بچانا اور اسے استعمال کے قابل بنانا ہے مجوزہ تبدیلی کے تحت بعض حالات میں گیس جلانے کی اجازت اور اس سے متعلق تقاضوں میں لچک بڑھائی جا سکتی ہے
بائیڈن انتظامیہ نے 2024 میں تیل اور گیس کی صنعت کے لیے میتھین کے اخراج سے متعلق جو ضابطے حتمی شکل میں جاری کیے تھے، ان کا مقصد نئے اور پہلے سے کام کرنے والے کنوؤں سے اخراج کو کم کرنا تھا اس وقت امریکی حکام نے اندازہ لگایا تھا کہ ان ضابطوں سے 2038 تک تقریباً 5 کروڑ 26 لاکھ میٹرک ٹن میتھین کے اخراج کو روکا جا سکتا ہے تاہم ان ضابطوں پر عمل درآمد کی کئی تاریخیں بعد میں مؤخر کر دی گئی تھیں اور تمام تقاضے مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے تھے
ماحولیاتی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تجویز پر اعتراض کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ نگرانی کم ہونے اور اخراج کے ضابطے نرم کیے جانے سے تیل اور گیس کی تنصیبات سے میتھین کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے اس کا اثر عالمی حدت کے علاوہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی صحت پر بھی پڑ سکتا ہے جہاں تیل اور گیس کی پیداوار ہوتی ہے ماحولیاتی کارکنوں کے مطابق بڑی مقدار میں گیس کا رساؤ روکنا صرف ماحول کے لیے نہیں بلکہ توانائی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے
دوسری جانب تیل اور گیس کی صنعت سے وابستہ بعض چھوٹے کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ہر کنویں پر یکساں ضابطے لاگو کرنا مناسب نہیں، کیونکہ کنوؤں کی پیداوار، نوعیت اور اخراج کی مقدار مختلف ہوتی ہے امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں پر عوامی رائے بھی لی جائے گی اور وفاقی رجسٹر میں اشاعت کے بعد کم از کم 45 دن کا تبصرہ جاتی دورانیہ اور عوامی سماعت رکھی جائے گی اس لیے یہ تبدیلیاں ابھی مجوزہ ضابطوں کی حیثیت رکھتی ہیں، انہیں مکمل طور پر نافذ شدہ قانون قرار دینا درست نہیں ہوگا
اس فیصلے کا بنیادی تنازع توانائی کی قیمتوں اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن سے متعلق ہے ٹرمپ انتظامیہ زیادہ پیداوار اور کم ضابطوں کو صارفین اور کاروباروں کے لیے مالی فائدے کا ذریعہ قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین کے نزدیک نگرانی اور اخراج میں کمی کے تقاضے نرم کرنے سے ماحولیاتی نقصانات بڑھ سکتے ہیں اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ حتمی ضابطے کس شکل میں منظور ہوتے ہیں، کمپنیاں ان پر کس حد تک عمل کرتی ہیں اور توانائی کی اضافی پیداوار کا فائدہ صارفین تک کس حد تک پہنچتا ہے

قومی خبریں سے مزید