مڈیموکریٹس کی بائیں بازو کی جانب پیش قدمی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن ووٹروں کا جوش بڑھائے گی,اسپیکر مائیک جانسن
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی بائیں بازو کی جانب بڑھتی ہوئی سیاسی پیش قدمی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن ووٹرز کے جوش و خروش میں اضافہ کر سکتی ہے،ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابات میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے اور مختلف قومی انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل دکھائی جا رہی ہے
جانسن نے پیر کو فاکس نیوز کے پروگرام ’’دی انگراہم اینگل‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا تو ان کے بقول صورت حال سابق صدر براک اوباما اور جو بائیڈن و کملا ہیرس کے ادوار سے بھی زیادہ غیر معمولی ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے خیال میں ڈیموکریٹک پارٹی پہلے کے مقابلے میں مزید بائیں بازو کی طرف چلی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام اس تبدیلی کو دیکھ رہے ہیں اور اس سے ری پبلکن پارٹی کے حامیوں میں انتخابی جوش بڑھنے کی توقع ہے
اسپیکر جانسن نے ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے وابستہ بعض نمایاں امیدواروں کے سیاسی نظریات پر بھی تنقید کی،ان کے مطابق، اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے بعض امیدوار سرحدوں اور جیلوں کے خاتمے اور پولیس کے محکموں کی مالی معاونت بند کرنے جیسی تجاویز کی حمایت کرتے ہیں، جو ان کے خیال میں ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں
جانسن نے ڈیموکریٹک پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب ماضی کی ڈیموکریٹک پارٹی نہیں رہی اور اس کی قیادت ایسے امیدواروں کو آگے بڑھا رہی ہے جو ان کے بقول پارٹی کو مزید بائیں بازو کی سمت لے جا رہے ہیں
ری پبلکن اسپیکر کا یہ بیان انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں پارٹی کارکنوں اور ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے،تاہم ڈیموکریٹس کی قومی سطح پر برتری کے بارے میں سامنے آنے والے انتخابی جائزوں اور جانسن کی جانب سے ری پبلکن ووٹروں کے جوش میں اضافے کی پیش گوئی کے درمیان فرق یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی ماحول کے بارے میں دونوں طرح کے اشاروں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے،قومی انتخابی جائزوں میں برتری لازماً کانگریس کی نشستوں میں اسی تناسب سے کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی






