صومالی قزاقوں کے قبضے میں رہنے والے پاکستانی ملاحوں کے خاندان معاوضے سے محروم
اسلام آباد: صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی ملاحوں کے خاندانوں کو مالی معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر پر سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق کمیٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کمیٹی نے حکام سے پوچھا ہے کہ متاثرہ ملاحوں کی رہائی، زخمیوں کے علاج، جاں بحق ملاح کی میت کی واپسی اور ان کے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں شپنگ ونگ کے ڈائریکٹر عارف ہارون نے واقعے کے بارے میں بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ معاوضے کی ادائیگی کے معاملے پر جہاز کے مالک، عملے کی بھرتی کرنے والی ایجنسی اور تحفظ و معاوضے کی انشورنس سے متعلق فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے
سینیٹر قرۃ العین مری نے جاں بحق ملاحوں کے خاندانوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد کی تفصیلات طلب کیں کمیٹی کی سربراہ نے حکام کو ہدایت کی کہ اپریل سے ستمبر تک عملے کی تنخواہوں، زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کو کی گئی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔ وزیراعظم کی جانب سے مالی امداد کے اعلان اور اس پر عمل درآمد کی بھی تصدیق کرنے کا حکم دیا گیا
کمیٹی نے واضح کیا کہ انشورنس کے معاملات اور متعلقہ فریقین کے درمیان اختلافات متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں بننے چاہییں حکام سے کہا گیا کہ معاوضے، طبی سہولتوں اور متاثرین کی مدد کے لیے کیے گئے اقدامات پر جامع رپورٹ پیش کی جائے
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سمندری جہازوں پر کام کرنے والے پاکستانی ملاح بیرون ملک تجارتی سرگرمیوں کے دوران خطرات سے دوچار رہتے ہیں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے، جسمانی تشدد، زخمی ہونے یا جان سے ہاتھ دھونے کی صورت میں ان کے خاندان شدید مالی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ایسے واقعات میں بروقت سفارتی مدد، محفوظ واپسی اور مالی معاوضے کی فراہمی حکومت اور متعلقہ کمپنیوں کی اہم ذمہ داری بن جاتی ہے
اجلاس میں انسانی حقوق کے علاوہ سائبر جرائم، تاوان طلب کرنے والے سافٹ ویئر کے حملوں، کرپٹو کرنسی سے متعلق فراڈ اور غیر معمولی منافع کا لالچ دینے والی جعلی سرمایہ کاری اسکیموں پر بھی بحث ہوئی۔ ارکان نے شکایات درج کرنے میں تاخیر، تحقیقات کی سست رفتاری، جعلی فون کالز، واٹس ایپ اکاؤنٹس کے غلط استعمال، ذاتی معلومات کی چوری اور مشتبہ بینک اکاؤنٹس کے معاملات اٹھائے
کمیٹی کی سربراہ نے متعلقہ اداروں سے کہا کہ شکایات پر کارروائی کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے اور متاثرین کو ان کے مقدمات کی پیش رفت سے باخبر رکھنے کا مؤثر نظام بنایا جائے حکام سے تحقیقات، رقم کی واپسی اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے قابل تصدیق اعداد و شمار بھی طلب کیے گئے
حکام نے بتایا کہ بعض مقدمات میں مشتبہ بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں، جبکہ متاثرین کی رقوم کی بازیابی اور واپسی کا عمل عدالتی احکامات اور متعلقہ قوانین کے مطابق جاری ہے
اجلاس میں بیرون ملک تعلیم، اسٹڈی ویزوں اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے نام پر لوگوں سے رقم بٹورنے والی کمپنیوں اور مشیروں کے خلاف شکایات کا بھی جائزہ لیا گیا کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ایسی مشاورتی کمپنیوں کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی جائے اور دھوکا دہی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے
کمیٹی نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور وزارت خارجہ کے نمائندوں کی اجلاس میں عدم موجودگی پر بھی اعتراض کیا، کیونکہ بیرون ملک داخلوں اور ویزوں سے متعلق شکایات زیر بحث تھیں
ملاحوں کے معاملے میں اب بنیادی سوال یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو کتنی مالی امداد دی گئی، کتنی رقم ابھی واجب الادا ہے اور ادائیگی مکمل ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا کمیٹی کی جانب سے مکمل ریکارڈ طلب کرنے کا مقصد یہی معلوم کرنا ہے کہ سرکاری امداد کے اعلانات اور عملی ادائیگیوں کے درمیان فرق کیوں موجود ہے تاہم معاوضے کی حتمی رقم اور ادائیگی کی تکمیل سے متعلق تفصیلات ابھی حکام کی رپورٹ کے بعد ہی واضح ہوں گی






