پی ٹی آئی قیادت سے اختلافات کھل کر سامنے آگئے، مذاکرات سے گریز اور پارٹی حکمت عملی پر شدید اختلاف
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی ارکان کی اکثریت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مزید مذاکرات کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ حلقے پہلے ہی اپنے مقاصد حاصل کر چکے ہیں اور اب مذاکرات جاری رکھنے سے پارٹی کی کمزوری ظاہر ہوگی دوسری جانب تقریباً 15 ارکان نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس 7 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا، جس میں موجودہ سیاسی صورت حال اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی بحث ہوئی اجلاس کی صدارت پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کی سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینیٹر علی ظفر اور چیف وہپ ملک عامر ڈوگر بھی اجلاس میں شریک تھے
اجلاس کے دوران پارٹی قیادت کے فیصلوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے بعض ارکان نے اعتراض کیا کہ قیادت نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیوں کیا، حالانکہ وہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہیں اجلاس میں شریک بعض ارکان نے الزام لگایا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے بیشتر معاملات ان کے سپرد کر دیے تھے، خصوصاً صوبے میں تبادلوں، تعیناتیوں اور مالی معاملات کے حوالے سے
اجلاس میں اس بات پر بھی اختلاف سامنے آیا کہ پارٹی کو موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے یا مزاحمت کی پالیسی جاری رکھنی چاہیے اکثریتی ارکان کے نزدیک مزید مذاکرات سے کوئی خاص فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں، جبکہ ایک چھوٹے گروپ کا خیال تھا کہ آئینی ترمیم کی حمایت کے ذریعے سیاسی ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے
پارٹی کے اندرونی اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب اجلاس میں اسد قیصر کی جانب سے ایک پہلے سے تحریر شدہ اعلامیہ پیش کیے جانے پر بعض ارکان نے اعتراض کیا ان کا کہنا تھا کہ اعلامیے میں ایسے نکات شامل تھے جن پر اجلاس میں باقاعدہ گفتگو نہیں ہوئی تھی اس موقع پر فیصل امین گنڈاپور نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور بیرسٹر گوہر سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہونے کے بعد اجلاس سے باہر چلے گئے
اجلاس میں مبین عارف جٹ نے پارٹی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جیلوں میں قید یا روپوش رہنماؤں کے لیے مؤثر آواز کیوں نہیں اٹھائی جا رہی انہوں نے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کے حوالے سے بھی الزامات لگائے، جن کا تعلق ان کے بیٹے کی گرفتاری کے بعد پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے رابطے اور لاہور میں قیام سے تھا۔ یہ الزامات اجلاس میں شریک ارکان کے بیانات پر مبنی تھے
سینیٹر اعظم سواتی نے بیرسٹر گوہر اور ان کے ساتھیوں کو عہدے چھوڑنے کا مشورہ دیا، جبکہ رکن قومی اسمبلی شاہ احد نے بھی قیادت پر تنقید کی پشاور سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیر علی نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کو فون کالز کے ذریعے پولیس کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی جا رہی ہے، بصورت دیگر ان کے گھروں پر چھاپوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں
اس تمام صورت حال کے باوجود اجلاس میں شریک بعض ارکان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پی ٹی آئی عوامی حمایت کھو چکی ہے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی حکومت کے خاتمے کے بعد کارکنوں کے حوصلے ضرور متاثر ہوئے ہیں، لیکن عوامی حمایت اب بھی موجود ہے
اجلاس کے بعد پارٹی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے بتایا کہ مختلف اہم معاملات پر گفتگو ہوئی ہے، تاہم حتمی فیصلے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے سینیٹر علی ظفر نے بھی کہا کہ آئندہ فیصلوں کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جن کی سربراہی اپوزیشن رہنما کریں گے
پی ٹی آئی کے لیے اس وقت بنیادی چیلنج عمران خان کی رہائی، گرفتار رہنماؤں کی قانونی مشکلات، پارٹی تنظیم کو فعال رکھنے اور حکومت و اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں واضح حکمت عملی مرتب کرنا ہے تازہ اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر اس بات پر اتفاق نہیں کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے مذاکرات بہتر راستہ ہیں یا سیاسی مزاحمت۔
پارٹی قیادت کے لیے آنے والے دن اہم ہوں گے، کیونکہ مذاکرات کے معاملے پر اختلافات اور قیادت کے فیصلوں پر بڑھتی ہوئی تنقید مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور جماعت کے اندر اتحاد پر اثر انداز ہو سکتی ہے






