Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی حکومت کی نظروں سے بچوں کو اوجھل رکھنے کا رجحان، ’خودمختار بچوں‘ کے نام پر والدین کو متبادل دستاویزات فروخت کرنے والی آن لائن صنعت

امریکی حکومت کی نظروں سے بچوں کو اوجھل رکھنے کا رجحان، ’خودمختار بچوں‘ کے نام پر والدین کو متبادل دستاویزات فروخت کرنے والی آن لائن صنعت

واشنگٹن:امریکہ میں بعض والدین اپنے بچوں کی پیدائش کا سرکاری اندراج کرانے اور سوشل سکیورٹی نمبر حاصل کرنے سے گریز کر رہے ہیں،ان کا خیال ہے کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ اور سرکاری شناختی دستاویزات بچوں کو حکومت کے نظام کا پابند بنا دیتی ہیں،اس رجحان کو ’’خودمختار بچوں‘‘ کی تحریک کا نام دیا جا رہا ہے، جسے سوشل میڈیا پر سرگرم شخصیات فروغ دے رہی ہیں اور بعض والدین کو متبادل دستاویزات حاصل کرنے کے طریقے سکھانے کے لیے سینکڑوں ڈالر وصول کر رہی ہیں
امریکی ٹیکنالوجی جریدے وائرڈ کی رپورٹ کے مطابق، یہ رجحان حکومت پر عدم اعتماد، روایتی تعلیم سے دوری، طبی اداروں کے بارے میں شکوک اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والے نظریات کے امتزاج سے فروغ پا رہا ہے،اس تحریک سے وابستہ والدین میں بعض اپنے بچوں کو روایتی تعلیمی نظام سے باہر رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ کچھ خاندان سفر اور گھر سے تعلیم دینے کو ترجیح دیتے ہیں،ان میں سے بعض بچوں کے لیے پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور سوشل سکیورٹی نمبر حاصل نہیں کرتے، تاہم بعد میں پاسپورٹ بنوانے کے لیے متبادل ثبوت پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں
اس رجحان کی ایک نمایاں مثال کرسٹن لاہارگو ہیں، جو یوٹاہ میں رہتی ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے خاندان کے سفر اور طرزِ زندگی کی تصاویر شیئر کرتی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے کے باوجود ان کے بچوں کے پاس پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور سوشل سکیورٹی نمبر نہیں ہیں،وہ اپنے بچوں کو ’’خودمختار بچے‘‘ قرار دیتی ہیں اور ویڈا ریوائیول نامی اپنے کاروبار کے ذریعے والدین کو متبادل دستاویزات اور پاسپورٹ کے حصول میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں
لاہارگو کا ایک پیکیج 497 ڈالر میں دستیاب ہے، جس میں ویڈیوز اور ایسے نمونے شامل ہیں جن کی مدد سے والدین اپنے بچوں کے لیے شہریت کے بجائے قومیت کی بنیاد پر پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں،زیادہ انفرادی رہنمائی کے لیے وہ 997 ڈالر وصول کرتی ہیں،رپورٹ کے مطابق، لاہارگو کا دعویٰ ہے کہ وہ 1,000 سے زیادہ والدین کی مدد کر چکی ہیں،تاہم، اس کاروبار کے بنیادی نظریے، یعنی سرکاری دستاویزات سے انکار کے ذریعے حکومت کے قانونی دائرۂ اختیار سے باہر نکلنے، کی کوئی تسلیم شدہ قانونی بنیاد نہیں ہے
اس شعبے میں دیگر افراد بھی سرگرم ہیں،ڈایون نامی ایک خاتون، جو خود کو خاندانی ورثے کی منصوبہ ساز قرار دیتی ہیں، ایسے پیکیج فروخت کرتی ہیں جن کے ذریعے صارفین غیر شہری قومی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،ان کی بعض خدمات کی قیمت 555 ڈالر تک ہے،یہ آن لائن کاروبار ایسے والدین کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے جو سمجھتے ہیں کہ بچوں کی شناخت کا سرکاری اندراج ان کی آزادی اور مستقبل کے اختیارات محدود کر سکتا ہے
تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور سوشل سکیورٹی نمبر کے بغیر زندگی گزارنے سے بچوں کو مستقبل میں سنگین مشکلات پیش آ سکتی ہیں،ان کے لیے ڈرائیونگ لائسنس، ملازمت، رہائش، صحت کی سہولتوں اور دیگر سرکاری خدمات کا حصول مشکل ہو سکتا ہے،قانونی ماہرین کے مطابق، امریکہ کی عدالتوں نے اب تک خودمختار شہریوں کے ان دلائل کو تسلیم نہیں کیا کہ کوئی شخص یا اس کا بچہ محض مخصوص دستاویزات نہ بنوانے سے امریکی قوانین کے دائرے سے باہر ہو جاتا ہے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نظریہ کئی دہائیوں پرانی خودمختار شہری تحریک سے جڑا ہوا ہے، جس کے پیروکار بعض اوقات ٹیکس ادا کرنے، ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے اور دیگر قانونی تقاضوں سے انکار کرتے ہیں،اس تحریک کی تاریخی جڑیں 1970 کی دہائی کی ایک نسل پرستانہ اور حکومت مخالف تنظیم پوس کومیتاتس میں ملتی ہیں،وقت کے ساتھ اس نظریے کے مختلف دھڑے وجود میں آئے، جن میں بعض افراد خود کو امریکی شہری کہنے کے بجائے ’’قومی باشندہ‘‘ قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس حیثیت کے تحت انہیں عام قوانین سے محدود استثنا حاصل ہو سکتا ہے
اس تحریک کے حامیوں میں بعض ایسے والدین بھی شامل ہیں جو بچوں کو روایتی اسکولوں کے بجائے گھر پر تعلیم دیتے ہیں یا دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے تعلیم کا انتظام کرتے ہیں،ان کا خیال ہے کہ بچوں کو کتابوں اور روایتی نصاب تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف معاشروں اور ثقافتوں سے براہِ راست واقف کرانا زیادہ مفید ہے،لیکن تعلیم اور سفر کے ان متبادل طریقوں کے ساتھ جب پیدائش کے سرکاری اندراج سے انکار بھی شامل ہو جاتا ہے تو بچوں کے لیے بنیادی دستاویزات حاصل کرنے کا عمل پیچیدہ ہو سکتا ہے
رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے شہریت کے ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر درخواست گزار کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ موجود نہ ہو تو بعض حالات میں دیگر دستاویزات، مثلاً تاخیر سے جاری ہونے والا پیدائش کا سرٹیفکیٹ، سرکاری ریکارڈ نہ ملنے کا خط، بپتسمہ کی دستاویزات، اسکول کے ریکارڈ یا مردم شماری کا اندراج پیش کیا جا سکتا ہے،تاہم، متبادل ثبوت کی منظوری یقینی نہیں ہوتی اور ہر درخواست کا جائزہ الگ بنیاد پر لیا جاتا ہے
ٹیکساس میں رہنے والی ایک خاتون، جنہیں رپورٹ میں فرضی نام ڈیبورا سے متعارف کرایا گیا ہے، نے بتایا کہ انہوں نے لاہارگو کی تربیتی ویڈیو خریدنے کے بعد اپنے شیرخوار بچے کے لیے پیدائش کے سرٹیفکیٹ کے بغیر پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی،ان کے مطابق، انہوں نے بپتسمہ کی دستاویزات، خاندانی بائبل میں درج اندراجات، بچے کی پیدائش سے متعلق حلف نامہ اور مقامی اخبار میں شائع ہونے والا پیدائش کا اعلان جمع کرایا،متعدد بار خط و کتابت کے بعد پاسپورٹ کی درخواست منظور کر لی گئی،”یہ ایک انفرادی تجربہ ہے، اس بات کی ضمانت نہیں کہ دوسرے والدین کی درخواستیں بھی اسی طرح منظور ہوں گی
کچھ والدین اس تحریک کی طرف سوشل میڈیا کے ذریعے آئے، جبکہ دوسروں نے دائیوں یا گھر پر زچگی میں مدد فراہم کرنے والے افراد سے اس کے بارے میں سنا،ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شناخت محفوظ رکھنا اور مستقبل میں انہیں اپنی مرضی سے سرکاری نظام میں شامل ہونے کا اختیار دینا چاہتے ہیں،لیکن ماہرین کے مطابق، پیدائش کا اندراج نہ ہونے سے بچے کو آزادی دینے کے بجائے اس کی زندگی کے بنیادی معاملات پیچیدہ ہو سکتے ہیں
رپورٹ میں سارہ ایشلے ٹاؤن سینڈ کی کہانی بھی شامل ہے، جن کی والدہ نے ان کی پیدائش کے وقت سرکاری دستاویزات بنوانے سے انکار کر دیا تھا،ٹاؤن سینڈ کے پاس بچپن میں سوشل سکیورٹی نمبر نہیں تھا اور ان کے خاندان نے انہیں دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ رکھا،جب وہ 5 برس کی عمر میں اسکول پہنچیں تو انہیں اپنے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں تعلیمی اور روزمرہ زندگی کے کئی معاملات میں مشکلات پیش آئیں،بعد میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کے دوران بھی ان کی پیدائش اور طبی تاریخ سے متعلق نامکمل ریکارڈ رکاوٹ بنا
ٹاؤن سینڈ کے مطابق، جب انہوں نے اپنے بیٹے کو جنم دیا تو ان کے بچے کی دستاویزات بھی اس لیے واپس کر دی گئیں کہ حکام کو خود ٹاؤن سینڈ کی پیدائش کا کافی ثبوت نہیں مل رہا تھا،انہیں اپنے بچے کا پیدائش کا سرٹیفکیٹ مکمل کرانے کے لیے متعدد دستاویزات اور تصدیق جمع کرنا پڑیں،ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بچے کو ابتدا ہی سے وہ بنیادی شناختی دستاویزات حاصل ہوں جن کے بغیر عام زندگی گزارنا مشکل ہو سکتا ہے
اس تحریک کے بعض حلقے روایتی طبی نظام پر عدم اعتماد کو بھی اپنے مؤقف کا حصہ بناتے ہیں اور گھر پر بغیر طبی مداخلت کے بچے کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،لیکن طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر مناسب طبی نگرانی کے زچگی ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے، خصوصاً جب پیچیدگیوں کی صورت میں فوری طبی مدد دستیاب نہ ہو،امریکہ میں زچگی کے دوران صحت کے مسائل، بالخصوص نسلی اقلیتوں میں، ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں، مگر ماہرین کے مطابق اس بحران کا حل طبی نگہداشت سے مکمل کنارہ کشی نہیں ہے
وائرڈ کی رپورٹ کے مطابق، ’’خودمختار بچوں‘‘ کی تحریک میں شامل والدین کسی ایک سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ سے تعلق نہیں رکھتے،ان میں مختلف طرزِ زندگی رکھنے والے افراد شامل ہیں، جنہیں حکومت پر عدم اعتماد اور بچوں کی شناخت کے بارے میں مختلف خدشات ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں،لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور سوشل سکیورٹی نمبر سے متعلق سازشی نظریات، مثلاً یہ دعویٰ کہ حکومت ان دستاویزات کے ذریعے بچوں کو قرض کے عوض مالی اثاثہ بنا دیتی ہے، حقیقت پر مبنی نہیں ہیں
اس تحریک کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی رازداری اور مستقبل کے انتخاب کے حق کو محفوظ بنانے کی کوشش میں کہیں انہیں ان دستاویزات سے تو محروم نہیں کر رہے جو تعلیم، علاج، ملازمت اور روزمرہ زندگی کے لیے ضروری ہو سکتی ہیں،ٹاؤن سینڈ کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچپن میں سرکاری شناختی دستاویزات نہ ہونے کے اثرات جوانی تک برقرار رہ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید