اسرائیلی انتخابات میں سیاسی تعطل، نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کے وزارتِ عظمیٰ کے متضاد دعوے، دونوں کو اکثریت حاصل نہیں
اسرائیل کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے ملک کی قیادت کے لیے متضاد مؤقف اختیار کرتے ہوئے حکومت سازی کا دعویٰ کیا ہے،نیتن یاہو نے دائیں بازو کی مضبوط قومی حکومت قائم کرنے پر زور دیا، جبکہ آئزن کوٹ نے کہا کہ ووٹروں نے نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور انہیں سیاست سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے،تاہم، دونوں رہنماؤں نے انتخابی کامیابی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا اور ابتدائی نتائج کے مطابق کسی بھی فریق کے پاس حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت موجود نہیں
ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے دوران اسرائیلی نشریاتی اداروں کان 11 اور چینل 13 کے ایگزٹ پولز میں دونوں سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا،چینل 12 کے تخمینے میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی قیادت میں قائم اتحاد کو 52 نشستوں کے ساتھ معمولی برتری حاصل تھی، جبکہ مخالف اتحاد کے لیے 49 نشستوں کا اندازہ ظاہر کیا گیا،ان تمام تخمینوں میں کوئی بھی فریق 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں تک نہیں پہنچ سکا
اس سیاسی تعطل سے نیتن یاہو کو عبوری وزیر اعظم کی حیثیت سے عہدے پر برقرار رہنے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ نئی حکومت کے قیام کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے،دوسری جانب آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کریں،انتخابی نتائج نے فی الحال یہ واضح نہیں کیا کہ اگلی حکومت کون بنائے گا، اور حتمی فیصلہ ووٹوں کی گنتی اور ممکنہ اتحادیوں کی حمایت پر منحصر ہوگا





